KHalid Malik Sahil's Photo'

خالد ملک ساحل

1961 | جرمنی

خالد ملک ساحل

غزل 20

اشعار 19

بس ایک خوف تھا زندہ تری جدائی کا

مرا وہ آخری دشمن بھی آج مارا گیا

خواب دیکھا تھا محبت کا محبت کی قسم

پھر اسی خواب کی تعبیر میں مصروف تھا میں

چمک رہے تھے اندھیرے میں سوچ کے جگنو

میں اپنی یاد کے خیمے میں سو نہیں پایا

جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو

میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو

تم مصلحت کہو یا منافق کہو مجھے

دل میں مگر غبار بہت دیر تک رہا

مزید دیکھیے