شیر سنگھ ناز دہلوی
غزل 20
اشعار 7
آبلہ پائی ہماری رنگ لائی دشت میں
خار صحرا تشنۂ خوں ہو کے نشتر ہو گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رو دئے فریاد پر میری بتان سنگ دل
میرے نالوں سے پگھل کر موم پتھر ہو گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اک بہانہ چاہیے ان کو بگڑنے کے لیے
میں نے زلفوں کی بلائیں لیں مرے سر ہو گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بل پڑے چتون پہ ابرو تن کے خنجر ہو گئے
ذکر وصل آتے ہی وہ جامے سے باہر ہو گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
آڈیو 7
دم_اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا
زلف_جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے
زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
ساحر دہلوی
-
ریاضؔ خیرآبادی
-
ہاجر دہلوی
-
دوارکا داس شعلہ
-
اختر انصاری اکبرآبادی
-
ساحر سیالکوٹی
-
پریم شنکر گوئلہ فرحت
-
صفی اورنگ آبادی
-
نواب امراوبہادر دلیر
-
کرشن گوپال مغموم
-
جے کرشن چودھری حبیب
-
امجد نجمی
-
شاہد صدیقی
-
باسط بھوپالی
-
جوہر زاہری
-
سید مسعود حسن مسعود
-
کیف مرادآبادی
-
ریاض حسن خاں خیال
-
حفیظ جالندھری
-
جگدیش مہتہ درد