Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sher Singh Naaz Dehlvi's Photo'

شیر سنگھ ناز دہلوی

1898 - 1962 | دلی, انڈیا

شیر سنگھ ناز دہلوی

غزل 20

اشعار 7

آبلہ پائی ہماری رنگ لائی دشت میں

خار صحرا تشنۂ خوں ہو کے نشتر ہو گئے

اک بہانہ چاہیے ان کو بگڑنے کے لیے

میں نے زلفوں کی بلائیں لیں مرے سر ہو گئے

باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا

مطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کا

بل پڑے چتون پہ ابرو تن کے خنجر ہو گئے

ذکر وصل آتے ہی وہ جامے سے باہر ہو گئے

رو دئے فریاد پر میری بتان سنگ دل

میرے نالوں سے پگھل کر موم پتھر ہو گئے

کتاب 1

 

آڈیو 7

دم_اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

زلف_جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے

زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے

Recitation

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے