Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

محبوب پر اشعار

محبوب کے بارے میں کون

سننا یا کچھ سنانا نہیں چاہتا ۔ ایک عاشق کے لئے یہی سب کچھ ہے کہ محبوب کی باتیں ہوتی رہیں اور اس کا تذکرہ چلتا رہے ۔ محبوب کے تذکرے کی اس روایت میں ہم بھی اپنی حصے داری بنا رہے ہیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے جو محبوب کی مختلف جہتوں کو موضوع بناتا ہے ۔

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

فراق گورکھپوری

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو

تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

منور رانا

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

ابن انشا

ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے

وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے

جمیل ملک

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

بشیر بدر

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں

محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

ساحر لدھیانوی

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

مرزا غالب

جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم

اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

احمد ندیم قاسمی

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

امجد اسلام امجد

اک تجھ کو دیکھنے کے لیے بزم میں مجھے

اوروں کی سمت مصلحتاً دیکھنا پڑا

فنا نظامی کانپوری

جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے

جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے

جلیل مانک پوری

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے

ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

جگر مراد آبادی

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مرے کاغذ پر

چھت پہ آ جاؤ مرا شعر مکمل کر دو

بشیر بدر

بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام

مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

بشیر بدر

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

نامعلوم

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جلیل مانک پوری

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر

پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

جگر مراد آبادی

سانس لیتی ہے وہ زمین فراقؔ

جس پہ وہ ناز سے گزرتے ہیں

فراق گورکھپوری

ہم کو اکثر یہ خیال آتا ہے اس کو دیکھ کر

یہ ستارہ کیسے غلطی سے زمیں پر رہ گیا

امتیاز خان

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

انجم عرفانی

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حسرتؔ موہانی

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے

ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

نامعلوم

پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کر

اک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی

ثروت حسین

کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہے

یاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنے

کلیم عاجز

کیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتے

معشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی

داغؔ دہلوی

وہ چاندنی میں پھرتے ہیں گھر گھر یہ شور ہے

نکلا ہے آفتاب شب ماہتاب میں

جلیل مانک پوری

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند

دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

بیخود دہلوی

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے

ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

ظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گا

اپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا

چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی

رند لکھنوی

دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے

اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

فرحت احساس

روشنی کے لیے دل جلانا پڑا

کیسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

خمار بارہ بنکوی

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا

مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

اختر سعید خان

پھول مہکیں گے یوں ہی چاند یوں ہی چمکے گا

تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے

اشفاق حسین

آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ

چاند کمرے میں مرے اترا ہے

خالد شریف

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا

سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

بشیر بدر

اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں

میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

حفیظ بنارسی

تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول

صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

قمر جلالوی

زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے

مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی

رشید لکھنوی

جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سے

چاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہے

قمر جلالوی

ادا و ناز و کرشمہ جفا و جور و ستم

ادھر یہ سب ہیں ادھر ایک میری جاں تنہا

شیخ ظہور الدین حاتم

میرا معشوق ہے مزوں میں بھرا

کبھو میٹھا کبھو سلونا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم
بولیے