غزل 14

اشعار 23

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

کوئی پرانا خط کچھ بھولی بسری یاد

زخموں پر وہ لمحے مرہم ہوتے ہیں

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا

کتاب 2

جوئے سماعت

 

2008

لباس زخم

 

1984

 

مزید دیکھیے

"بلرامپور" کے مزید شعرا

  • اہتمام صادق اہتمام صادق
  • اکبر علی خان عرشی زادہ اکبر علی خان عرشی زادہ
  • بیکل اتساہی بیکل اتساہی
  • اختر پیامی اختر پیامی