Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا0
0 ا ,خاک ہے میرا بدن خاک ہی اس کا ہوگا0
0 ا ,کعبۂ_دل دماغ کا پھر سے غلام ہو گیا0
0 ابھی نہیں کہ ابھی محض استعارہ بنا0
0 آخر اس کے حسن کی مشکل کو حل میں نے کیا0
0 اس طرح آتا ہوں بازاروں کے بیچ0
0 اس کو ہے عشق بتانا بھی نہیں چاہتا ہے0
0 اسیر خاک بھی ہوں خاک سے رہا بھی ہوں میں0
0 اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم0
0 اک ہوا سا مرے سینے سے مرا یار گیا0
0 اہل بدن کو عشق ہے باہر کی کوئی چیز0
0 اوروں کا سارا کام مجھے دے دیا گیا0
0 اوروں نے اس گلی سے کیا کیا نہ کچھ خریدا (ردیف .. ے)0
0 ایام صرف شام و سحر ہو کے رہ گئے0
0 ایماں کا لطف پہلوئے‌ تشکیک میں ملا0
0 ب ,تجھے خبر ہو تو بول اے مرے ستارۂ_شب0
0 با معنیوں سے بچ کے مہمل کی راہ پکڑی0
0 بادل اس بار جو اس شہر پہ چھائے ہوئے ہیں0
0 بجھ گئے سارے چراغ جسم و جاں تب دل جلا0
0 بدن اور روح میں جھگڑا پڑا ہے0
0 بدن کے موسم برسات میں نہیں آنا0
0 بظاہر تو بدن بھر کا علاقہ گھیر رکھا ہے0
0 بہ رنگ سبزہ انہی ساحلوں پہ جم جائیں0
0 بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں0
0 بہت ممکن تھا ہم دو جسم اور اک جان ہو جاتے0
0 بے رنگ بڑے شہر کی ہستی بھی وہیں تھی0
0 بیمار ہو گیا ہوں شفا خانہ چاہیے0
0 پرانا زخم جسے تجربہ زیادہ ہے0
0 پہلے تو ذرا سا ہٹ کے دیکھا0
0 پہلے قبرستان آتا ہے پھر اپنی بستی آتی ہے0
0 پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے0
0 تم کچھ بھی کرو ہوش میں آنے کے نہیں ہم0
0 تمام شہر کی خاطر چمن سے آتے ہیں0
0 تمہیں اس سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتے0
0 تہہ بدن کہیں بیدار ہوتا جاتا ہوں0
0 تیرا بھلا ہو تو جو سمجھتا ہے مجھ کو غیر0
0 تیرے سورج کو تری شام سے پہچانتے ہیں0
0 ٹھوکریں کھا کے سنبھلنا نہیں آتا ہے مجھے0
0 جب اس کو دیکھتے رہنے سے تھکنے لگتا ہوں0
0 جس طرح پیدا ہوئے اس سے جدا پیدا کرو0
0 جس کو جیسا بھی ہے درکار اسے ویسا مل جائے0
0 جسم جب محو سخن ہوں شب خاموشی سے0
0 جسم کی قید سے سب رنگ تمہارے نکل آئے0
0 چراغ شہر سے شمع دل صحرا جلانا0
0 حد بدن میں میری ذات آ نہیں رہی ہے0
0 خانہ ساز اجالا مار0
0 خدا خاموش بندے بولتے ہیں0
0 خط بہت اس کے پڑھے ہیں کبھی دیکھا نہیں ہے0
0 خلاف گردش معمول ہونا چاہتا ہوں0
0 خلل آیا نہ حقیقت میں نہ افسانہ بنا0
0 خوب ہونی ہے اب اس شہر میں رسوائی مری0
0 خود سے انکار کو ہم زاد کیا ہے میں نے0
0 دبا پڑا ہے کہیں دشت میں خزانہ مرا0
0 دن نے اتنا جو مریضانہ بنا رکھا ہے0
0 دنی ہیں سب کوئی راتی نہیں ہے0
0 دونوں کا لا شعور ہے اتنا ملا ہوا0
0 دیکھتے ہی دیکھتے کھونے سے پہلے دیکھتے0
0 دیکھو ابھی لہو کی اک دھار چل رہی ہے0
0 رات بہت شراب پی رات بہت پڑھی نماز0
0 راستے ہم سے راز کہنے لگے0
0 راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیے0
0 رقص الہام کر رہا ہوں0
0 روح کو تو اک ذرا سی روشنی درکار ہے0
0 رونق زہر ہو چکا مرا دل0
0 زمیں سے عرش تلک سلسلہ ہمارا بھی تھا0
0 زمیں نے لفظ اگایا نہیں بہت دن سے0
0 سانسیں نا ہموار مری0
0 سب لذتیں وصال کی بیکار کرتے ہو0
0 سب نعمتیں ہیں شہر میں انسان ہی نہیں0
0 شعر بنانا مرا خود کو بنانا بھی ہے0
0 صحرا کے سنگین سفر میں آب رسانی کم نہ پڑے0
0 عجیب تجربہ آنکھوں کو ہونے والا تھا0
0 عشق بھی کرنا ہے ہم کو اور زندہ بھی رہنا ہے0
0 عشق میں کتنے بلند امکان ہو جاتے ہیں ہم0
0 عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے0
0 ف ,لوگ یوں جاتے نظر آتے ہیں مقتل کی طرف0
0 کام ان آنکھوں کی ہوس ناکی کی سازش آ گئی0
0 کچھ بتاتا نہیں کیا سانحہ کر بیٹھا ہے0
0 کچھ بھی نہ کہنا کچھ بھی نہ سننا لفظ میں لفظ اترنے دینا0
0 کس سلیقے سے وہ مجھ میں رات بھر رہ کر گیا0
0 کس سلیقے سے وہ مجھ میں رات بھر رہ کر گیا0
0 کھڑی ہے رات اندھیروں کا ازدحام لگائے0
0 کیا بیٹھ جائیں آن کے نزدیک آپ کے0
0 کیسی بلائے جاں ہے یہ مجھ کو بدن کیے ہوئے0
0 گ ,جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج (ردیف .. گ)0
0 گر اپنے آپ میں انسان بڑھتا جا رہا ہے0
0 گھر بنانے میں تمام اہل سفر لگ گئے ہیں0
0 گھر میں چیزیں بڑھ رہی ہیں زندگی کم ہو رہی ہے0
0 ل ,جسم کی کچھ اور ابھی مٹی نکال0
0 لگے ہوئے ہیں زمانے کے انتظام میں ہم0
0 م ,راستہ دے اے ہجوم_شہر گھر جائیں_گے ہم0
0 محبت چاہتے ہو کیوں وفا کیوں مانگتے ہو0
0 محبت کا صلہ کار محبت سے نہیں ملتا0
0 محفل میں اب کے آؤ تو ایسی خطا نہ ہو0
0 مرے شعروں میں فن کاری نہیں ہے0
0 مسلسل اشک باری ہو رہی ہے0
0 ملا ہے جسم کہ اس کا گماں ملا ہے مجھے0
0 مہرباں موت نے مرتوں کو جلا رکھا ہے0
0 موت ہی ایک دوا ہے اور وہ جاری ہے0
0 میری مٹی کا نسب بے سر و سامانی سے0
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 151 items