Farhat Ehsas's Photo'

فرحت احساس

1952 | دلی, ہندوستان

ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں

ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں

فرحت احساس

غزل 152

اشعار 85

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

  • شیئر کیجیے

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

  • شیئر کیجیے

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے

کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں

وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں

  • شیئر کیجیے

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

  • شیئر کیجیے

قطعہ 1

 

کتاب 285

آب

 

1994

آدمی اداس ہے

 

2002

آخری داستان گو

نئی الف لیلیٰ

1994

آوارگی

 

1987

ابوالکلام آزاد

 

2004

ابوالکلام آزاد: ایک تقابلی مطالعہ

 

1992

ادبی اصناف

شمارہ نمبر۔001

1988

ادھوری بات

 

2009

افکار ذاکر

ڈاکٹر ذاکر حسین کی منتخب تحرریں

2005

عجیب دن تھے

 

2010

تصویری شاعری 20

جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج خود کو بحال کرنا ہے کھونا نہیں ہے آج آنکھوں نے دیکھتے ہی اسے غل مچا دیا طے تو یہی ہوا تھا کہ رونا نہیں ہے آج یہ رات اہل_ہجر کے خوابوں کی رات ہے قصہ تمام کرنا ہے سونا نہیں ہے آج جو اپنے گھر میں ہے وہ ہے بازار میں نہیں ہونا کسی کا شہر میں ہونا نہیں ہے آج پھر طفل_دل ہے دولت_دنیا پہ گریہ_بار اور میرے پاس کوئی کھلونا نہیں ہے آج

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے دنیا مرے زخموں کی طلب_گار بہت ہے اب ٹوٹ رہا ہے مری ہستی کا تصور اس وقت مجھے تجھ سے سروکار بہت ہے مٹی کی یہ دیوار کہیں ٹوٹ نہ جائے روکو کہ مرے خون کی رفتار بہت ہے ہر سانس اکھڑ جانے کی کوشش میں پریشاں سینے میں کوئی ہے جو گرفتار بہت ہے پانی سے الجھتے ہوئے انسان کا یہ شور اس پار بھی ہوگا مگر اس پار بہت ہے

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

اندر کے حادثوں پہ کسی کی نظر نہیں ہم مر چکے ہیں اور ہمیں اس کی خبر نہیں

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے_گا تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں

عید خوشیوں کا دن سہی لیکن اک اداسی بھی ساتھ لاتی ہے زخم ابھرتے ہیں جانے کب کب کے جانے کس کس کی یاد آتی ہے

راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیے آپ اپنے گھر کی اک دیوار کم کر دیجیے آپ کا عاشق بہت کمزور دل کا ہے حضور دیکھیے یہ شدت_انکار کم کر دیجیے میں بھی ہونٹوں سے کہوں_گا کم کریں جلنے کا شوق آپ اگر سرگرمیٔ_رخسار کم کر دیجیے ایک تو شرم آپ کی اور اس پہ تکیہ درمیاں دونوں دیواروں میں اک دیوار کم کر دیجیے آپ تو بس کھولیے لب بوسہ دینے کے لئے بوسہ دینے پر جو ہے تکرار کم کر دیجیے رات کے پہلو میں پھیلا دیجیے زلف_دراز یوں_ہی کچھ طول_شب_بیمار کم کر دیجیے یا ادھر کچھ تیز کر دیجے گھروں کی روشنی یا ادھر کچھ رونق_بازار کم کر دیجیے وہ جو پیچھے رہ گئے ہیں تیز_رفتاری کریں آپ آگے ہیں تو کچھ رفتار کم کر دیجیے ہاتھ میں ہے آپ کے تلوار کیجے قتل_عام ہاں مگر تلوار کی کچھ دھار کم کر دیجیے بس محبت بس محبت بس محبت جان_من باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے شاعری تنہائی کی رونق ہے محفل کی نہیں فرحتؔ_احساس اپنا یہ دربار کم کر دیجیے

ویڈیو 16

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
مزاح

فرحت احساس

فرحت احساس

آڈیو 10

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے

اس طرف تو تری یکتائی ہے

تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • مہتاب حیدر نقوی مہتاب حیدر نقوی ہم عصر
  • نواز دیوبندی نواز دیوبندی ہم عصر
  • ثمینہ راجہ ثمینہ راجہ ہم عصر
  • ندیم عرشی ندیم عرشی ہم عصر
  • عبید صدیقی عبید صدیقی ہم عصر
  • پروین شاکر پروین شاکر ہم عصر
  • جینت پرمار جینت پرمار ہم عصر
  • صلاح الدین پرویز صلاح الدین پرویز ہم عصر
  • شجاع خاور شجاع خاور ہم عصر
  • ثروت حسین ثروت حسین ہم عصر

"دلی" کے مزید شعرا

  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • مظہر امام مظہر امام
  • انس خان انس خان
  • بلراج کومل بلراج کومل