Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ویلنٹائن ڈے پر اشعار

عشق اور رومان پر یہ

شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

جگر مراد آبادی

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

راحت اندوری

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

محبت میں جینا اور مرنا ایک ہی بات لگتی ہے، ان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

ہم اسی محبوب کو دیکھ کر جیتے رہتے ہیں جس ظالم پر نظر پڑے تو دم نکل جائے۔

اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔

مرزا غالب

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

انور شعور

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

عشق پر کسی کا زور نہیں چلتا، اسے نہ جبر سے لایا جا سکتا ہے نہ روکا جا سکتا ہے۔

غالبؔ کہتے ہیں یہ ایسی آگ ہے جو نہ چاہو تو بھی لگ جائے، اور لگ جائے تو بجھتی نہیں۔

اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔

مرزا غالب

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

غلام محمد قاصر

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

اگر کوئی واقعی سمجھنے والا ہو تو میں ایک بات کہہ دوں۔

عشق گناہ نہیں، اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔

فراق گورکھپوری

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

میں تمہارے عشق کی آخری حد تک پہنچنا چاہتا ہوں۔

ذرا میری سادگی دیکھو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔

اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔

علامہ اقبال

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

امیر مینائی

یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

جون ایلیا

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر

ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

اکبر الہ آبادی

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

قتیل شفائی

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

سب لوگ اُسی سمت دیکھ رہے ہیں جدھر وہ موجود ہیں۔

میں محبوب کو نہیں، دیکھنے والوں کی نگاہوں کو دیکھ رہا ہوں۔

اس شعر میں عاشق کی توجہ محبوب سے ہٹ کر ہجوم کی نگاہوں پر ہے۔ سب کی نظریں محبوب کی طرف ہیں، مگر شاعر اُن نظروں میں چھپی چاہت، رشک اور مقابلے کی کیفیت پڑھتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ محبوب کے گرد کشش بھی ہے اور رقابت بھی۔ جذبے کی تہہ میں چوکسی اور ہلکی سی غیرت نمایاں ہے۔

داغؔ دہلوی

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے

آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

آئینہ دیکھ کر بننے سنورنے والے یہ بات کہتے ہیں۔

آج جو لوگ میری موت کے خواہش مند ہیں، وہ خود بےوقت گھٹ کر مر جائیں گے۔

شاعر آئینے کے سامنے حسن و آرائش کرنے والوں کی بات کو اپنے حق میں ایک طنزیہ دعوے میں بدل دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ میری شان اور دلکشی ایسی ہے کہ جو لوگ مجھے گرانا یا مروا دینا چاہتے ہیں، وہی حسد اور جھنجھلاہٹ میں اندر سے ٹوٹ جائیں گے۔ “بے موت مرنا” یہاں حسرت و حسد سے جلنے کا استعارہ ہے۔ لہجہ فخر آمیز اور چبھتا ہوا ہے۔

داغؔ دہلوی

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں

دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

کیفی اعظمی

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

پروین شاکر

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جگر مراد آبادی

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ

بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے

جمال احسانی

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے

موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

قتیل شفائی

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بشیر بدر

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

امیر مینائی

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔

شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔

یہ وصال کی رات ہے، ان چراغوں کو بجھا دو۔

خوشی کی محفل میں تڑپتے اور جلتے لوگوں کی کیا جگہ ہے؟

شاعر وصال کی رات میں چراغ بجھانے کو کہتا ہے کہ اس ساعتِ قرب میں روشنی نہیں، خلوت درکار ہے۔ یہاں “جلنے والے” اُن عاشقوں کا استعارہ ہیں جو ہجر کی آگ میں جلتے ہیں۔ خوشی کی بزم میں اُن کا سوز ناگوار ٹھہرتا ہے، اس لیے شعر میں لطیف طنز اور محرومی کا احساس ابھرتا ہے۔

داغؔ دہلوی

عاشقی سے ملے گا اے زاہد

بندگی سے خدا نہیں ملتا

اے زاہد! تجھے جو حقیقت چاہیے، وہ عشق کے راستے سے ملے گی۔

صرف بندگی اور ظاہری عبادت سے خدا نہیں ملتا۔

داغؔ دہلوی یہاں زاہد کی خشک پرہیزگاری پر طنز کرتے ہیں اور عشق کی سچائی کو اصل راستہ بتاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ محض رسم و رواج والی بندگی، بغیر دل کی تپش کے، انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتی۔ خدا کی قربت کے لیے اندر کی لگن اور محبت ضروری ہے۔

داغؔ دہلوی

کون سی بات ہے تم میں ایسی

اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

محسن نقوی

میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں

وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا

افضل الہ آبادی

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

نامعلوم

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

وسیم بریلوی

نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف

ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ

آرزو لکھنوی

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے

روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

نامعلوم

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ عشق حقیقت میں کیا چیز ہے؟

عشق جان کو لگ جانے والا روگ ہے، ایک بڑی بلا ہے۔

میر تقی میر عشق کو بیان سے باہر اور حد سے زیادہ گہرا تجربہ دکھاتے ہیں، جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو روگ اور بلا کہا گیا ہے، یعنی یہ دل لگی نہیں بلکہ جان پر آ پڑنے والی آفت ہے۔ یہاں استعارہ عشق کی شدت، ناگزیریت اور عاشق کی بے بسی کو نمایاں کرتا ہے۔ احساسِ مرکزی درد اور حیرت کا ملا جلا رنگ ہے۔

میر تقی میر

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

نامعلوم

محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے

کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا

بشیر بدر

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

فرحت احساس

دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں

لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

قتیل شفائی

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ

نظام رامپوری

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

امیر مینائی

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

میری وحشت تری شہرت ہی سہی

اگر تم میرے جذبات کو عشق نہیں مانتے تو چلو اسے وحشت اور دیوانگی ہی سمجھ لو۔

لیکن میری یہ دیوانگی ہی دراصل دنیا میں تمہاری شہرت اور ناموری کا سبب بن رہی ہے۔

غالبؔ یہاں محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ نام اور القاب سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر میرا جذبہ عشق نہیں تو وحشت ہی سہی۔ شاعر طنزیہ اور فخریہ انداز میں یاد دلاتے ہیں کہ عاشق کا یہی پاگل پن محبوب کی مشہوری کا باعث ہے۔ گویا عاشق کی تباہی میں ہی محبوب کی کامیابی پوشیدہ ہے اور وہ اس پر بھی راضی ہے۔

مرزا غالب

اسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اس نے

گلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا

دلاور علی آزر

جب تم سے محبت کی ہم نے تب جا کے کہیں یہ راز کھلا

مرنے کا سلیقہ آتے ہی جینے کا شعور آ جاتا ہے

ساحر لدھیانوی

یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزا

میں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں

یہ بتائیے کہ اس غلطی کی سزا کیا ہوگی؟

اگر میں کہہ بیٹھوں کہ میں آپ پر جان دیتا ہوں۔

شاعر اقرارِ محبت کو ‘خطا’ بنا کر شوخی سے اس کی سزا پوچھتا ہے۔ اس انداز میں ڈر بھی ہے کہ محبوب ناراض نہ ہو، اور حیا بھی کہ بات کھل کر نہ کہی جائے۔ ‘مرتا ہوں’ مبالغۂ عشق ہے جو شدتِ جذبہ اور بے بسی دونوں کو ایک ساتھ ظاہر کرتا ہے۔

داغؔ دہلوی

صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں

خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ

انور شعور

ایک کمی تھی تاج محل میں

میں نے تری تصویر لگا دی

کیف بھوپالی

تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو

آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ

شکیل بدایونی

اس تعلق میں نہیں ممکن طلاق

یہ محبت ہے کوئی شادی نہیں

انور شعور

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

شکیب جلالی

چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی

ظہیرؔ دہلوی
بولیے