ویلنٹائن ڈے پر اشعار
عشق اور رومان پر یہ
شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
-
موضوعات : عشقاور 5 مزید
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
محبت میں جینا اور مرنا ایک ہی بات لگتی ہے، ان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
ہم اسی محبوب کو دیکھ کر جیتے رہتے ہیں جس ظالم پر نظر پڑے تو دم نکل جائے۔
اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
-
موضوعات : بے خودیاور 7 مزید
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
عشق پر کسی کا زور نہیں چلتا، اسے نہ جبر سے لایا جا سکتا ہے نہ روکا جا سکتا ہے۔
غالبؔ کہتے ہیں یہ ایسی آگ ہے جو نہ چاہو تو بھی لگ جائے، اور لگ جائے تو بجھتی نہیں۔
اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
-
موضوعات : عشقاور 5 مزید
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
اگر کوئی واقعی سمجھنے والا ہو تو میں ایک بات کہہ دوں۔
عشق گناہ نہیں، اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
میں تمہارے عشق کی آخری حد تک پہنچنا چاہتا ہوں۔
ذرا میری سادگی دیکھو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 4 مزید
تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے
یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
-
موضوع : رومان
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
سب لوگ اُسی سمت دیکھ رہے ہیں جدھر وہ موجود ہیں۔
میں محبوب کو نہیں، دیکھنے والوں کی نگاہوں کو دیکھ رہا ہوں۔
اس شعر میں عاشق کی توجہ محبوب سے ہٹ کر ہجوم کی نگاہوں پر ہے۔ سب کی نظریں محبوب کی طرف ہیں، مگر شاعر اُن نظروں میں چھپی چاہت، رشک اور مقابلے کی کیفیت پڑھتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ محبوب کے گرد کشش بھی ہے اور رقابت بھی۔ جذبے کی تہہ میں چوکسی اور ہلکی سی غیرت نمایاں ہے۔
-
موضوع : رومان
آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے
آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے
آئینہ دیکھ کر بننے سنورنے والے یہ بات کہتے ہیں۔
آج جو لوگ میری موت کے خواہش مند ہیں، وہ خود بےوقت گھٹ کر مر جائیں گے۔
شاعر آئینے کے سامنے حسن و آرائش کرنے والوں کی بات کو اپنے حق میں ایک طنزیہ دعوے میں بدل دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ میری شان اور دلکشی ایسی ہے کہ جو لوگ مجھے گرانا یا مروا دینا چاہتے ہیں، وہی حسد اور جھنجھلاہٹ میں اندر سے ٹوٹ جائیں گے۔ “بے موت مرنا” یہاں حسرت و حسد سے جلنے کا استعارہ ہے۔ لہجہ فخر آمیز اور چبھتا ہوا ہے۔
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
-
موضوعات : جگجیت سنگھاور 5 مزید
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
-
موضوعات : روماناور 2 مزید
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
-
موضوعات : اداسیاور 3 مزید
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں
-
موضوعات : روماناور 5 مزید
میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے
-
موضوعات : روماناور 2 مزید
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو
خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔
شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
یہ وصال کی رات ہے، ان چراغوں کو بجھا دو۔
خوشی کی محفل میں تڑپتے اور جلتے لوگوں کی کیا جگہ ہے؟
شاعر وصال کی رات میں چراغ بجھانے کو کہتا ہے کہ اس ساعتِ قرب میں روشنی نہیں، خلوت درکار ہے۔ یہاں “جلنے والے” اُن عاشقوں کا استعارہ ہیں جو ہجر کی آگ میں جلتے ہیں۔ خوشی کی بزم میں اُن کا سوز ناگوار ٹھہرتا ہے، اس لیے شعر میں لطیف طنز اور محرومی کا احساس ابھرتا ہے۔
عاشقی سے ملے گا اے زاہد
بندگی سے خدا نہیں ملتا
اے زاہد! تجھے جو حقیقت چاہیے، وہ عشق کے راستے سے ملے گی۔
صرف بندگی اور ظاہری عبادت سے خدا نہیں ملتا۔
داغؔ دہلوی یہاں زاہد کی خشک پرہیزگاری پر طنز کرتے ہیں اور عشق کی سچائی کو اصل راستہ بتاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ محض رسم و رواج والی بندگی، بغیر دل کی تپش کے، انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتی۔ خدا کی قربت کے لیے اندر کی لگن اور محبت ضروری ہے۔
-
موضوعات : بندگیاور 1 مزید
میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں
وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا
-
موضوع : پھول
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں
میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
آتے آتے مرا نام سا رہ گیا
اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
-
موضوعات : روماناور 3 مزید
زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے
روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ عشق حقیقت میں کیا چیز ہے؟
عشق جان کو لگ جانے والا روگ ہے، ایک بڑی بلا ہے۔
میر تقی میر عشق کو بیان سے باہر اور حد سے زیادہ گہرا تجربہ دکھاتے ہیں، جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو روگ اور بلا کہا گیا ہے، یعنی یہ دل لگی نہیں بلکہ جان پر آ پڑنے والی آفت ہے۔ یہاں استعارہ عشق کی شدت، ناگزیریت اور عاشق کی بے بسی کو نمایاں کرتا ہے۔ احساسِ مرکزی درد اور حیرت کا ملا جلا رنگ ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر
پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر
محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے
محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
-
موضوعات : دلاور 3 مزید
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ
-
موضوعات : انگڑائیاور 2 مزید
ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری
-
موضوعات : روماناور 2 مزید
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
اگر تم میرے جذبات کو عشق نہیں مانتے تو چلو اسے وحشت اور دیوانگی ہی سمجھ لو۔
لیکن میری یہ دیوانگی ہی دراصل دنیا میں تمہاری شہرت اور ناموری کا سبب بن رہی ہے۔
غالبؔ یہاں محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ نام اور القاب سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر میرا جذبہ عشق نہیں تو وحشت ہی سہی۔ شاعر طنزیہ اور فخریہ انداز میں یاد دلاتے ہیں کہ عاشق کا یہی پاگل پن محبوب کی مشہوری کا باعث ہے۔ گویا عاشق کی تباہی میں ہی محبوب کی کامیابی پوشیدہ ہے اور وہ اس پر بھی راضی ہے۔
-
موضوعات : شہرتاور 4 مزید
اسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اس نے
گلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا
جب تم سے محبت کی ہم نے تب جا کے کہیں یہ راز کھلا
مرنے کا سلیقہ آتے ہی جینے کا شعور آ جاتا ہے
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزا
میں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں
یہ بتائیے کہ اس غلطی کی سزا کیا ہوگی؟
اگر میں کہہ بیٹھوں کہ میں آپ پر جان دیتا ہوں۔
شاعر اقرارِ محبت کو ‘خطا’ بنا کر شوخی سے اس کی سزا پوچھتا ہے۔ اس انداز میں ڈر بھی ہے کہ محبوب ناراض نہ ہو، اور حیا بھی کہ بات کھل کر نہ کہی جائے۔ ‘مرتا ہوں’ مبالغۂ عشق ہے جو شدتِ جذبہ اور بے بسی دونوں کو ایک ساتھ ظاہر کرتا ہے۔
صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
ایک کمی تھی تاج محل میں
میں نے تری تصویر لگا دی
-
موضوعات : تاج محلاور 4 مزید
تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو
آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ
اس تعلق میں نہیں ممکن طلاق
یہ محبت ہے کوئی شادی نہیں
آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے
تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر
-
موضوعات : پھولاور 1 مزید
چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی