چراغ پر شاعری

چراغ اور اس کی روشنی کو شاعری میں ایک مثبت قدر کے طور پر دیکھا گیا ہے ۔ چراغ اپنی ناتوانی اور بجھ جانے کے قوی امکان کے باوجود اندھیرے کے خلاف ایک محاذ کھولے رہتا ہے اور روشنی لٹاتا رہتا ہے ۔ چراغ کے اور بھی کئی استعاراتی پہلو ہیں جو اور زیادہ دلچسپ ہیں ۔ ہمارا یہ ایک چھوٹا سا انتخاب پڑھئے ۔

جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا

کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا

وسیم بریلوی

رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی

دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے

وسیم بریلوی

دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے

چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے

the lamp's extinguised but someone's heart

the lamp's extinguised but someone's heart

نشور واحدی

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

this hearts blisters are inflamed by its own desire

by its own lamp,alas, this house is set afire

this hearts blisters are inflamed by its own desire

by its own lamp,alas, this house is set afire

مہتاب رائے تاباں

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

داغؔ دہلوی

رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ

کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے

عرفان صدیقی

ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا

کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے

جاوید اختر

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

احمد فراز

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے

ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو

احمد فراز

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

زہرا نگاہ

شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہے

سو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے

احتشام اختر

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ

اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

افتخار عارف

کون طاقوں پہ رہا کون سر راہ گزر

شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے

احمد فراز

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا

ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

مینا کماری ناز

کسی خیال کسی خواب کے لیے خورشیدؔ

دیا دریچے میں رکھا تھا دل جلایا تھا

خورشید ربانی

کہیں کوئی چراغ جلتا ہے

کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی

ابرار احمد

اپنی تصویر کے اک رخ کو نہاں رکھتا ہے

یہ چراغ اپنا دھواں جانے کہاں رکھتا ہے

غلام مرتضی راہی

چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا

یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا

بشیر الدین احمد دہلوی

خاک سے سینکڑوں اگے خورشید

ہے اندھیرا مگر چراغ تلے

احسان دانش

یہ کہہ کے اس نے گل کیا شمع مزار کو

جب سو گئے تو کیا ہے ضرورت چراغ کی

عبدالعزیز عنبر

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے

پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

آغا حجو شرف

ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے

چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے

غلام حسین ساجد

اب چراغوں میں زندگی کم ہے

دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے

عبدالمجید خاں مجید

رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی

ہے میرے گھر میں روشنی چراغ کے بغیر بھی

اختر سعیدی