محشر پر شاعری

محشر ایک مذہبی اصطلاح ہے یہ تصور اس دن کےلئے استعمال ہوتا ہے جب دنیا فنا ہوجائے گی اور انسانوں سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا ۔ مذہبی روایات کے مطابق یہ ایک سخت دن ہوگا ۔ ایک ہنگامہ برپا ہوگا ۔ لوگ ایک دوسرے سے بھاگ رہے ہوں گے سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ۔ محشر کا شعری استعمال اس کے اس مذہبی سیاق میں بھی ہوا ہے اور ساتھ ہی معشوق کے جلوے سے بپا ہونے والے ہنگامے کیلئے بھی ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ

وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

داغؔ دہلوی

ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا

سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا

on judgement day, let me say, I know how it will be

all eyes would be upon her and hers will be on me

on judgement day, let me say, I know how it will be

all eyes would be upon her and hers will be on me

جگر مراد آبادی

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے

تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے

آرزو لکھنوی

متعلقہ موضوعات