آہ شاعری

کلاسیکی شاعری کی شعریات ایک معنی میں لفظ و معنی کی خوب صورت شعریات ہے۔ یہاں لفظوں کے ذریعہ معنی کا ایک جہان پیدا کرنے کی کوشش ملتی ہے ۔ لفظ کے برتاؤ سے ہی اچھی شاعری وجود میں آتی ہے ۔ لفظ نرا نہیں ہوتا ہے بلکہ شعرکی تعین قدرکی بنیاد ہوتا ہے۔آہ بھی ایک ایسا لفظ ہے جس کے ارد گرد کلاسیکی شاعری کا بڑا حصہ موجود ہے۔ ہجرمیں عاشق آہیں بھرتا ہے اور آہ و فغاں کا یہ سلسلہ طویل تر ہوتا جاتا ہے مگر اس کے جفا پیشہ معشوق پراس کا کچھ اثرنہیں ہوتا۔ اس چھوٹے سے انتخاب میں آہوں کا یہ درد بھرا شورسنئے۔

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

A prayer needs a lifetime, an answer to obtain

who can live until the time that you decide to deign

A prayer needs a lifetime, an answer to obtain

who can live until the time that you decide to deign

مرزا غالب

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

اکبر الہ آبادی

درد دل کتنا پسند آیا اسے

میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

آسی غازی پوری

عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا

ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہے

مسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہے

جگر مراد آبادی

کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے

ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری

مری آہ کا تم اثر دیکھ لینا

وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا

جلیل مانک پوری

دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے

یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں

عندلیب شادانی

ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری

کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی

جگر مراد آبادی

ہم نے ہنس ہنس کے تری بزم میں اے پیکر ناز

کتنی آہوں کو چھپایا ہے تجھے کیا معلوم

مخدومؔ محی الدین

درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا

آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی

غلام بھیک نیرنگ

ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم

آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے

قمر جلالوی

وہ کون تھا وہ کہاں کا تھا کیا ہوا تھا اسے

سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو

شہریار

وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا

نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے

اختر انصاری

ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کی

مر گئے مرتے مرتے آہ نہ کی

امیر مینائی

عرش تک جاتی تھی اب لب تک بھی آ سکتی نہیں

رحم آ جاتا ہے کیوں اب مجھ کو اپنی آہ پر

it cannot even reach my lips, it used to reach the highest skies

I feel compassion at the sorry condition of my sighs

it cannot even reach my lips, it used to reach the highest skies

I feel compassion at the sorry condition of my sighs

بیاں احسن اللہ خان

آہ تو اب بھی دل سے اٹھتی ہے

لیکن اس میں اثر نہیں ہوتا

کرامت بخاری

پوچھا اگر کسی نے مرا آ کے حال دل

بے اختیار آہ لبوں سے نکل گئی

مرزارضا برق ؔ

اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر

کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا

حفیظ جالندھری

کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے

پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ

عمیر نجمی

آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا

عاشقوں کے واسطے باب اثر کھلتا نہیں

سحر عشق آبادی

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

رند لکھنوی

چمن پھونک ڈالوں گا آہ و فغاں سے

وہ میرا نشیمن جلا کر تو دیکھیں

نامعلوم

نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوں

میں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوں

شیخ ظہور الدین حاتم

آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی

کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے

غلام بھیک نیرنگ

اے جنوں ہاتھ جو وہ زلف نہ آئی ہوتی

آہ نے عرش کی زنجیر ہلائی ہوتی

گویا فقیر محمد

شعر کیا ہے آہ ہے یا واہ ہے

جس سے ہر دل کی ابھر آتی ہے چوٹ

ساحر دہلوی

تم بھول گئے مجھ کو یوں یاد دلاتا ہوں

جو آہ نکلتی ہے وہ یاد دہانی ہے

مبارک عظیم آبادی

بہت مضر دل عاشق کو آہ ہوتی ہے

اسی ہوا سے یہ کشتی تباہ ہوتی ہے

تعشق لکھنوی

آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو

نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں

سائل دہلوی

آہ کیا کیا آرزوئیں نذر حرماں ہو گئیں

روئیے کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجئے

اثر صہبائی

جب سے جدا ہوا ہے وہ شوخ تب سے مجھ کو

نت آہ آہ کرنا اور زار زار رونا

میر حسن

آہ اب خود دارئ اکبر کہاں

ہو گئی وہ بھی غلام آرزو

اکبر حیدری کشمیری

جس کوں پیو کے ہجر کا بیراگ ہے

آہ کا مجلس میں اس کی راگ ہے

سراج اورنگ آبادی

آہ بے اثر نکلی نالہ نارسا نکلا

اک خدا پہ تکیہ تھا وہ بھی آپ کا نکلا

عزیز قیسی

صحبت وصل ہے مسدود ہیں در ہائے حجاب

نہیں معلوم یہ کس آہ سے شرم آتی ہے

شاد لکھنوی

اب جہاں میں باقی ہے آہ سے نشاں اپنا

اڑ گئے دھوئیں اپنے رہ گیا دھواں اپنا

ناطق گلاوٹھی

گزری ہے رات مجھ میں اور دل میں طرفہ صحبت

ایدھر تو میں نے کی آہ اودھر سے وہ کراہا

میر حسن

آہ تعظیم کو اٹھتی ہے مرے سینہ سے

دل پہ جب اس کی نگاہوں کے خدنگ آتے ہیں

میر حسن

یاد آیا بھی تو یوں عہد وفا

آہ کی بے اثری یاد آئی

قیوم نظر

نہ ہووے کیوں کے گردوں پہ صدا دل کی بلند اپنی

ہماری آہ ہے ڈنکا دمامے کے بجانے کا

عبدالوہاب یکروؔ

حربہ ہے عاشقوں کا فقط آہ پیچ دار

درویش لوگ رکھتے ہیں جیسے ہرن کی شاخ

مصحفی غلام ہمدانی