noImage

شاد لکھنوی

1805 - 1899

شاد لکھنوی

غزل 58

اشعار 19

وہ نہا کر زلف پیچاں کو جو بکھرانے لگے

حسن کے دریا میں پنہاں سانپ لہرانے لگے

  • شیئر کیجیے

عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے

عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا

خدا کا ڈر نہ ہوتا گر بشر کو

خدا جانے یہ بندہ کیا نہ کرتا

  • شیئر کیجیے

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے

گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے

  • شیئر کیجیے

وصل میں بیکار ہے منہ پر نقاب

شرم کا آنکھوں پہ پردہ چاہئے

  • شیئر کیجیے

کتاب 2

 

متعلقہ شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے