Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فلک پر اشعار

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میر تقی میر

ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی

ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی

نامعلوم

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں

کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

قتیل شفائی

وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔ

کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے

قمر جلالوی

فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر

مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے

نشور واحدی

اجالوں میں چھپی تھی ایک لڑکی

فلک کا رنگ روغن کر گئی ہے

سوپنل تیواری

آنسو فلک کی آنکھ سے ٹپکے تمام رات

اور صبح تک زمین کا آنچل بھگو گئے

ظہیر احمد ظہیر

فلک کی خبر کب ہے نا شاعروں کو

یوں ہی گھر میں بیٹھے ہوا باندھتے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

تھی درد کی جب تک دل میں کھٹک ہلتا تھا فلک لرزاں تھی زمیں

ہم آہیں جس دم بھرتے تھے اک محشر برپا ہوتا تھا

نواب سیف علی سیاف

کبھی اس کی موجوں میں افلاک بہتے ملے ہیں

کبھی اس کو کشتی چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں

ممتاز اطہر
بولیے