info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر


آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

آج سمے کا پہیہ گھوما پیچھے سب کچھ چھوٹ گیا


ایک ستارہ بھارت ماتا کی آنکھوں کا ٹوٹ گیا

اب بجلیوں کا خوف بھی دل سے نکل گیا


خود میرا آشیاں مری آہوں سے جل گیا

ایسی ضد کا کیا ٹھکانا اپنا مذہب چھوڑ کر


میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

چمن سے کون چلا ہے خموشیاں لے کر


کلی کلی تڑپ اٹھی ہے سسکیاں لے کر

چمن سے رخصت گل ہے نہ لوٹنے کے لیے


تو بلبلوں کا تڑپنا یہاں پہ جائز ہے

غیر کو درد سنانے کی ضرورت کیا ہے


اپنے جھگڑے میں زمانے کی ضرورت کیا ہے

عید کے بعد وہ ملنے کے لیے آئے ہیں


عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد

اس مہرباں نظر کی عنایت کا شکریا


تحفہ دیا ہے عید پہ ہم کو جدائی کا

اس سے بڑھ کر اور کیا ہے سادہ لوحی عشق کی


آپ نے وعدہ کیا اور ہم کو باور ہو گیا

جو رات دن مرے مرنے کی کر رہے تھے دعا


وہ رو رہے ہیں جنازے میں ہچکیاں لے کر

کفن نہ میرا ہٹاؤ زمانہ دیکھ نہ لے


میں سو گیا ہوں تمہاری نشانیاں لے کر

خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے


وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر


بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے

کوئی آیا تھا دل کی بستی میں


دل مرا جھومتا تھا مستی میں

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا


جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

میں نے سامان سفر باندھ کے پھر کھول دیا


ایک تصویر نے دیکھا مجھے الماری سے

نکل کے خلد سے ان کو ملی خلافت ارض


نکالے جانے کی تہمت ہمارے سر آئی

پھول کی خوشبو ہوا کی چاپ شیشہ کی کھنک


کون سی شے ہے جو تیری خوش بیانی میں نہیں

قاتل تری گلی بھی بدایوں سے کم نہیں


جس کے قدم قدم پہ مزار شہید ہے

سنا ہے کہ دلی میں الو کے پٹھے


رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

تماشا دیکھ رہے تھے جو ڈوبنے کا مرے


مری تلاش میں نکلے ہیں کشتیاں لے کر

تم مٹا سکتے نہیں دل سے مرا نام کبھی


پھر کتابوں سے مٹانے کی ضرورت کیا ہے

تمہارے گھر میں دروازہ ہے لیکن تمہیں خطرے کا اندازہ نہیں ہے


ہمیں خطرے کا اندازہ ہے لیکن ہمارے گھر میں دروازہ نہیں ہے

ان کو بھولے ہوئے اپنے ہی ستم یاد آئے


جب کسی غیر نے تڑپایا تو ہم یاد آئے