معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر


آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

آج سمے کا پہیہ گھوما پیچھے سب کچھ چھوٹ گیا


ایک ستارہ بھارت ماتا کی آنکھوں کا ٹوٹ گیا

اب بجلیوں کا خوف بھی دل سے نکل گیا


خود میرا آشیاں مری آہوں سے جل گیا

ایسی ضد کا کیا ٹھکانا اپنا مذہب چھوڑ کر


میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

بدلا ہوا ہے آج مرے آنسوؤ کا رنگ


کیا دل کے زخم کا کوئی ٹانکا ادھڑ گیا

بہن کا پیار جدائی سے کم نہیں ہوتا


اگر وہ دور بھی جائے تو غم نہیں ہوتا

بے پردگی پڑوس کی جس کو عزیز ہو


دیوار اپنے گھر کی وہ کیسے بنائے گا

بتوں کی چاہ میں ہم تو عذاب ہی میں رہے


شب فراق کٹی روز انتظار آیا

چلے جائیے مجھ سے دامن بچا کر


تصور سے بچ کر کہاں جائیے گا

اک مسافر کے لیے زاد سفر ہے اے دوست


وقت رخصت تری آنکھوں کا وہ جھک سا جانا

اس سے بڑھ کر اور کیا ہے سادہ لوحی عشق کی


آپ نے وعدہ کیا اور ہم کو باور ہو گیا

جب اتنی بے وفائی پر دل اس کو پیار کرتا ہے


تو یارب وہ ستم گر باوفا ہوتا تو کیا ہوتا

جب تک بکا نہ تھا تو کوئی پوچھتا نہ تھا


تو نے خرید کر مجھے انمول کر دیا

جیتے جی ہوجیے واحد شاہد


کچھ قیامت میں نہ کام آئے گا

جس طرف تو نے کیا ایک اشارہ نہ جیا


نہ جیا آہ تری چشم کا مارا نہ جیا

جس طرف تو نے کیا ایک اشارہ نہ جیا


نہ جیا آہ تری چشم کا مارا نہ جیا

جو ایک لفظ کی خوشبو نہ رکھ سکا محفوظ


میں اس کے ہاتھ میں پوری کتاب کیا دیتا

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا


اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

پھر آ گیا ہے ایک نیا سال دوستو


اس بار بھی کسی سے دسمبر نہیں رکا

پوچھا جو میں نے یار سے انجام سوز عشق


شوخی سے اک چراغ کو اس نے بجھا دیا

تن کی عریانی سے بڑھ کر نہیں دنیا میں لباس


یہ وہ جامہ ہے کہ جس کا نہیں الٹا سیدھا

تیرے نثار ساقیا جتنی پیوں پلائے جا


مست نظر کا واسطہ مست مجھے بنائے جا

تھی اگر مے سے صراحی تری خالی ساقی


تو چراغ در میخانہ جلایا کیوں تھا

ترا ملنا ترا نہیں ملنا


اور جنت ہے کیا جہنم کیا

تم لگاتے چلو اشجار جدھر سے گزرو


اس کے سائے میں جو بیٹھے گا دعا ہی دے گا