info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

ابرو نے مژہ نے نگۂ یار نے یارو


بے‌ رتبہ کیا تیغ کو خنجر کو سناں کو

عجب لہجہ ہے اس کی گفتگو کا


غزل جیسی زباں وہ بولتا ہے

چمن سے کون چلا ہے خموشیاں لے کر


کلی کلی تڑپ اٹھی ہے سسکیاں لے کر

غیر کو درد سنانے کی ضرورت کیا ہے


اپنے جھگڑے میں زمانے کی ضرورت کیا ہے

عید کے بعد وہ ملنے کے لیے آئے ہیں


عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد

جو رات دن مرے مرنے کی کر رہے تھے دعا


وہ رو رہے ہیں جنازے میں ہچکیاں لے کر

کفن نہ میرا ہٹاؤ زمانہ دیکھ نہ لے


میں سو گیا ہوں تمہاری نشانیاں لے کر

خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے


وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

کوئی آیا تھا دل کی بستی میں


دل مرا جھومتا تھا مستی میں

لے میں ڈوبی ہوئی مستی بھری آواز کے ساتھ


چھیڑ دے کوئی غزل اک نئے انداز کے ساتھ

میں نے سامان سفر باندھ کے پھر کھول دیا


ایک تصویر نے دیکھا مجھے الماری سے

مرے پہلو میں وہ آیہ بھی تو خوشبو کی طرح


میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے

نکل کے خلد سے ان کو ملی خلافت ارض


نکالے جانے کی تہمت ہمارے سر آئی

پھول کی خوشبو ہوا کی چاپ شیشہ کی کھنک


کون سی شے ہے جو تیری خوش بیانی میں نہیں

قاتل تری گلی بھی بدایوں سے کم نہیں


جس کے قدم قدم پہ مزار شہید ہے

قدم قدم پہ بچھے ہیں گلاب پلکوں کے


چلے بھی آؤ کہ ہم انتظار کرتے ہیں

رات بیتی تو یہ یقیں آیا


جس کو آنا تھا وہ نہیں آیا

سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی


کبھی چہرہ نہیں ملتا کبھی درپن نہیں ملتا

شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیے


اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے

سنا ہے کہ دلی میں الو کے پٹھے


رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

تماشا دیکھ رہے تھے جو ڈوبنے کا مرے


مری تلاش میں نکلے ہیں کشتیاں لے کر

تم مٹا سکتے نہیں دل سے مرا نام کبھی


پھر کتابوں سے مٹانے کی ضرورت کیا ہے

تمہارے گھر میں دروازہ ہے لیکن تمہیں خطرے کا اندازہ نہیں ہے


ہمیں خطرے کا اندازہ ہے لیکن ہمارے گھر میں دروازہ نہیں ہے

ان کو بھولے ہوئے اپنے ہی ستم یاد آئے


جب کسی غیر نے تڑپایا تو ہم یاد آئے

وہ اتفاق سے نزدیک آئے ہیں لیکن


یہ اتفاق ہوا ہے بڑی دعاؤں کے بعد