خراج پر اشعار
اچھے لوگ کبھی نہیں مرتے
وہ اپنی مادی جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دلوں میں ہمیشہ گھر کئے رہتی ہیں اور ہم انہیں وقتا فوقتا یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی شعر پیش کر رہے ہیں جو گزرے ہوؤں کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کی مختلف صورتوں ، جذبوں اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں نرگس کو آنکھ کی علامت بنا کر بے نوری کو روحانی و فکری اندھا پن کہا گیا ہے۔ چمن سے مراد معاشرہ ہے جہاں سچی بصیرت رکھنے والا رہنما بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ شعر کا جذبہ ایک طرف محرومی اور حسرت ہے، دوسری طرف اس نادر بصیرت کے ظہور کی امید بھی۔
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
-
موضوع : موت
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
EXPLANATION #1
یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کی بنیاد ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ پر ہے۔ سہل کا مطلب آسان بھی ہے اور کم تر بھی۔ مگر اس شعر میں یہ لفظ کم تر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فلک کا مطلب آسمان ہے اور فلک کے پھرنے سے مراد گشت کرنے کا بھی ہیں اور مارا مارا پھرنے کے بھی۔ مگر اس شعر میں فلک کے پھرنے سے غالب مراد مارامارا پھرنے کے ہی ہیں۔ خاک کا مطلب زمین ہے اور خاک کا لفظ میر نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ انسان کو خاک سے بنا ہوا یعنی خاکی کہا جاتا ہے۔
شعر میں خاص بات یہ کہ شاعر نے ’’فلک‘‘، ’’خاک‘‘ اور ’’انسان‘‘ کے الفاظ سے بہت کمال کا خیال پیش کیا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہوئے کہ اے انسان ! ہم جیسے لوگوں کو سہل مت سمجھو، ہم جیسے لوگ تب خاک سے پیدا ہوتے ہیں جب آسمان برسوں تک بھٹکتا ہے۔
لیکن شاعر اصل میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم جیسے باکمال لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے بلکہ جب آسمان برسوں مارا مارا پھرتا ہے تب ہم جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں کم تر یا کم مایہ مت جانو۔ یعنی جب آسمان برسوں تک ہم جیسے باکمال لوگوں کو پیدا کرنے کے لئے مارا مارا پھرتا ہے تب کہیں جا کر ہم خاک کے پردے سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس شعر میں لفظ انسان سے دو مطلب برآمد ہوتے ہیں یعنی ایک یعنی باکمال، یا ہنر اور با صلاحیت آدمی۔ دوسرا انسانیت سے بھرپور آدمی۔
شفق سوپوری
-
موضوعات : فلکاور 1 مزید
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے
-
موضوعات : یاداور 1 مزید
تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا
مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
-
موضوع : مشہور اشعار
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
EXPLANATION #1
سب حسین لوگ واپس نہیں آئے، ان میں سے کچھ ہی پھولوں کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔
مٹی میں نجانے کیسی کیسی پیاری صورتیں دفن ہوں گی جو ہمیشہ کے لیے چھپ گئیں۔
مرزا غالب کہتے ہیں کہ زمین سے اگنے والے رنگ برنگے پھول دراصل اُن حسین لوگوں کا دوسرا روپ ہیں جو مر کر مٹی میں مل گئے۔ وہ افسوس کرتے ہیں کہ گل و لالہ کی شکل میں تو صرف کچھ ہی جلوے نظر آئے، جبکہ بے شمار حسین صورتیں ابھی بھی خاک کے پردے میں پوشیدہ ہیں۔
شفق سوپوری
-
موضوعات : یاداور 1 مزید
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے
-
موضوعات : موتاور 1 مزید
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی
گمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
-
موضوع : یاد رفتگاں
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی
کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں
-
موضوع : یاد رفتگاں
یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی
جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا
-
موضوعات : موتاور 1 مزید
تمہاری موت نے مارا ہے جیتے جی ہم کو
ہماری جان بھی گویا تمہاری جان میں تھی
وہ کیا گیا کہ ہر اک شخص رہ گیا تنہا
اسی کے دم سے تھیں باہم رفاقتیں ساری
-
موضوعات : جدائیاور 2 مزید
جھونکے نسیم خلد کے ہونے لگے نثار
جنت کو اس گلاب کا تھا کب سے انتظار