تمام
تعارف
غزل86
نظم39
شعر110
ای-کتاب32
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 28
آڈیو 32
ویڈیو 60
قطعہ1
گیلری 3
بلاگ1
پروین شاکر
غزل 86
نظم 39
اشعار 110
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
قطعہ 1
تصویری شاعری 28
کھلے_گی اس نظر پہ چشم_تر آہستہ آہستہ کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ کوئی زنجیر پھر واپس وہیں پر لے کے آتی ہے کٹھن ہو راہ تو چھٹتا ہے گھر آہستہ آہستہ بدل دینا ہے رستہ یا کہیں پر بیٹھ جانا ہے کہ تھکتا جا رہا ہے ہم_سفر آہستہ آہستہ خلش کے ساتھ اس دل سے نہ میری جاں نکل جائے کھنچے تیر_شناسائی مگر آہستہ آہستہ ہوا سے سرکشی میں پھول کا اپنا زیاں دیکھا سو جھکتا جا رہا ہے اب یہ سر آہستہ آہستہ
پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن میں وحشت بہل گئی رات ہوئی اور نکلا چاند کس مقتل سے گزرا ہوگا اتنا سہما سہما چاند یادوں کی آباد گلی میں گھوم رہا ہے تنہا چاند میری کروٹ پر جاگ اٹھے نیند کا کتنا کچا چاند میرے منہ کو کس حیرت سے دیکھ رہا ہے بھولا چاند اتنے گھنے بادل کے پیچھے کتنا تنہا ہوگا چاند آنسو روکے نور نہائے دل دریا تن صحرا چاند اتنے روشن چہرے پر بھی سورج کا ہے سایا چاند جب پانی میں چہرہ دیکھا تو نے کس کو سوچا چاند برگد کی اک شاخ ہٹا کر جانے کس کو جھانکا چاند بادل کے ریشم جھولے میں بھور سمے تک سویا چاند رات کے شانے پر سر رکھے دیکھ رہا ہے سپنا چاند سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر شبنم تھی یا ننھا چاند ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا اس کی صورت ہجر کا چاند صحرا صحرا بھٹک رہا ہے اپنے عشق میں سچا چاند رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے ہماری زندگی برباد کر کے پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں_گے ہم وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے مگر ہاں منت_صیاد کر کے بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن گیا ہے روح کو آباد کر کے ہر آمر طول دینا چاہتا ہے مقرر ظلم کی میعاد کر کے