Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یاد پر اشعار

یاد شاعری کا بنیادی

موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب

آج تم یاد بے حساب آئے

فیض احمد فیض

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

راحت اندوری

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں ایک نرم سی دوہری کیفیت ہے: یاد نہ آنا اور بھول جانا ایک بات نہیں۔ کہنے والا اعتراف کرتا ہے کہ مدتوں خیال نہیں آیا، مگر رشتہ دل سے کٹا نہیں۔ غیاب اور بےحسی کے باوجود محبت کی ہلکی سی ڈور باقی رہتی ہے۔

فراق گورکھپوری

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

انور شعور

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر بیرونی منظر اور اندرونی کیفیت کو ایک کر دیتا ہے: دھواں دھواں شام دل کی دھند اور بوجھل پن کی علامت ہے۔ “حسن” کا اداس ہونا بتاتا ہے کہ دل کو خوشی دینے والی چیزیں بھی بے رنگ لگ رہی ہیں۔ اسی عالم میں بہت سی ادھوری یادیں/کہانیاں دل میں جاگتی ہیں اور رخصت نہیں ہوتیں، بس ایک خاموش کسک بن کر رہ جاتی ہیں۔

فراق گورکھپوری

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اختر انصاری

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

ناصر کاظمی

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

جون ایلیا

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

گلزار

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا

ساحر لدھیانوی

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

حسرتؔ موہانی

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر

جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

احمد فراز

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

فیض احمد فیض

سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر

اب کسے رات بھر جگاتی ہے

جون ایلیا

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں

ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کی بے اعتنائی اور عاشق کی انتہا درجے کی وابستگی کا تضاد ہے۔ “بھول کر یاد کرنا” محبوب کے لیے بھی ممکن نہیں، جبکہ عاشق کی یاد اتنی غالب ہے کہ وہ زندگی کی دوسری سب باتیں مٹا دیتی ہے۔ جذبے کی یک طرفگی ہی اس کا درد اور حسن ہے۔

بہادر شاہ ظفر

تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا

کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے

جلیل مانک پوری

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔

داغؔ دہلوی

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثار اختر

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

ناصر کاظمی

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

خمار بارہ بنکوی

تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی

ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر محبوب کی بے اعتنائی اور اپنی وارفتگی کا موازنہ کر رہا ہے۔ وہ شکوہ کناں ہے کہ محبوب اسے بھولے سے بھی یاد نہیں کرتا، جبکہ عاشق محبوب کے تصور میں اتنا محو ہے کہ اسے دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہیں رہی۔ یہ کمالِ عشق اور خود فراموشی کی انتہا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

جوش ملیح آبادی

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست

وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ زندگی کا پورا وقت ایک ہی دائرے میں کٹ گیا: محبوب کی یاد اور اسے بھلانے کی جدوجہد۔ دونوں حالتیں بظاہر مخالف ہیں مگر نتیجہ ایک ہے، کیونکہ مرکز پھر بھی وہی محبوب رہتا ہے۔ یہاں “کاٹ دیے” میں دنوں کا بوجھ اور بےمزگی جھلکتی ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ جدائی نے جینے کو بھی محض گزارنے میں بدل دیا۔

فراق گورکھپوری

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ

بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے

جمال احسانی

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب

اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم

احمد فراز

ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یاد

وقت کتنا قیمتی ہے آج کل

شکیل بدایونی

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجر ناظم علی خان

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے

غالباً میں کسی کو بھول گیا

جون ایلیا

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے آپ/دل کو ڈانٹتا ہے کہ محبوب کی یاد کو ضرورت سے زیادہ خوب صورت نہ بنا۔ مگر وہ جانتا ہے کہ یاد کی طرف لوٹنا ایک ایسی گرفت ہے جو دل پر مضبوط ہو جاتی ہے اور پھر بھلانا ممکن نہیں رہتا۔ اس میں حسرت، خود ملامتی اور بے بسی کی کیفیت ہے۔ محبت کی یاد ہی محبت کا زنجیر بن جاتی ہے۔

میر تقی میر

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر جدائی کے بعد کی اس کیفیت کو دکھاتا ہے جہاں یاد آنا بھی بند ہو جاتا ہے اور دل سن ہو جاتا ہے۔ شاعر نے “تنہائیاں” کو جاندار بنا کر بتایا کہ تنہائی کی شدت ایسی ہے کہ دکھ کی رفاقت بھی نہیں رہتی۔ اس میں خلا، بے کسی اور اندرونی ویرانی کا گہرا احساس ہے۔

فراق گورکھپوری

اک عجب حال ہے کہ اب اس کو

یاد کرنا بھی بے وفائی ہے

جون ایلیا

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

جلیل مانک پوری

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

EXPLANATION #1

یہ ایک عجیب طرح کی اور شدید ویرانی ہے۔

صحرا اور بیابان کو دیکھ کر مجھے اپنا گھر یاد آ گیا۔

مرزا غالب اس شعر میں فرماتے ہیں کہ میرے گھر کی ویرانی اور اُجاڑ پن کا یہ عالم ہے کہ دشت (جنگل) بھی اس کے سامنے کچھ نہیں۔ عام طور پر انسان دشت سے گھبرا کر گھر کا رخ کرتا ہے، مگر یہاں دشت کی ویرانی دیکھ کر شاعر کو اپنے گھر کی یاد آتی ہے جو اس سے بھی زیادہ ویران ہے۔

محمد اعظم

مرزا غالب

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب سے پوچھتا ہے کہ جو رشتہ اور باہمی قرار کبھی تھا، کیا اس کی یاد اب بھی باقی ہے۔ “قرار” میں تعلق کی پختگی اور باہمی رضا شامل ہے، اور “وعدہ نباہ” وفاداری کی قسم ہے۔ “یاد ہو کہ نہ یاد ہو” کی تکرار شکایت بھی ہے اور بےبسی بھی، جیسے بھول جانا ہی بےوفائی بن گیا ہو۔ اس طرح شعر یاد اور وفا کو محبت کی کسوٹی بنا دیتا ہے۔

مومن خاں مومن

جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا

یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے

جون ایلیا

چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ

مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا

تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا

تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے

ندا فاضلی

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا

ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی

ناصر کاظمی

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

خمار بارہ بنکوی

وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں

ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

امام بخش ناسخ

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

افتخار مغل

آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا

آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

اقبال اشہر

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے

یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری

تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو

اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

قتیل شفائی

جس کو تم بھول گئے یاد کرے کون اس کو

جس کو تم یاد ہو وہ اور کسے یاد کرے

جوشؔ ملسیانی
بولیے