تنہائی شاعری

کلاسیکی شاعری میں تنہائی روایتی عشق کی پیدا کردہ تھی ۔ محبوب وصل سے انکار کردیتا تھا تو عاشق تنہا ہو جاتا تھا ۔ اس تنہائی میں محبوب کی یاد اس کا سہارا بنتی لیکن تنہائی کو جدید شاعروں نے جس وسیع سیاق میں برتا ہےاور اسے جدید دور کے جس بڑے عذاب کے طور دیکھا ہے اس سے شعری موضوعات میں اور اضافہ ہوا ہے ۔ تنہائی کو موضوع بنانے والے شعروں کا ہمارا یہ انتخاب ایک سطح پر جدید غزل کو سمجھنے میں بھی معاون ہوگا ۔

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

گلزار

اپنے ہونے کا کچھ احساس نہ ہونے سے ہوا

خود سے ملنا مرا اک شخص کے کھونے سے ہوا

مصور سبزواری

میں ہوں دل ہے تنہائی ہے

تم بھی ہوتے اچھا ہوتا

my loneliness my heart and me

would be nice

فراق گورکھپوری

مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں

یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں

جاوید صبا

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں

عمر گزری ہے اس قدر تنہا

گلزار

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

فراق گورکھپوری

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

پروین شاکر

یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی

اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے

ارشد عبد الحمید

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک

جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

ندا فاضلی

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

انجم سلیمی

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ

ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر چلے جاتے

امید فاضلی

مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں

مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

احمد ندیم قاسمی

اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے

کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

زہرا نگاہ

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

نامعلوم

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے

لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

احمد مشتاق

اک سفینہ ہے تری یاد اگر

اک سمندر ہے مری تنہائی

احمد ندیم قاسمی

ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں

تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

عادل منصوری

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ

اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

نامعلوم

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا

اختر شیرانی

بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے

آدمی آدمی اکیلا ہے

صبا اکبرآبادی

کوئی بھی گھر میں سمجھتا نہ تھا مرے دکھ سکھ

ایک اجنبی کی طرح میں خود اپنے گھر میں تھا

راجیندر منچندا بانی

یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی

کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا

وسیم بریلوی

شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیے

اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے

نصیر ترابی

ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے

کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

احمد ندیم قاسمی

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ

اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

اسلم کولسری

بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا

گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

علیم مسرور

تم سے ملے تو خود سے زیادہ

تم کو اکیلا پایا ہم نے

عرفان صدیقی

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں

میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

منیر نیازی

ہچکیاں رات درد تنہائی

آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو

ناصر جونپوری

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

اکبر حیدرآبادی
  • موضوعات : دل
    اور 1 مزید

کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی

ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

فرحت احساس

بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی

وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں

افضل خان

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے

صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

جاوید شاہین

کس قدر بد نامیاں ہیں میرے ساتھ

کیا بتاؤں کس قدر تنہا ہوں میں

انور شعور

وہ نہیں ہے نہ سہی ترک تمنا نہ کرو

دل اکیلا ہے اسے اور اکیلا نہ کرو

محمود ایاز

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

ناصر کاظمی

تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست

اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں لگتے ہیں

سیماب اکبرآبادی

در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں

خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

افتخار عارف

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا

میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا

راجیندر منچندا بانی

کمرے میں مزے کی روشنی ہو

اچھی سی کوئی کتاب دیکھوں

محمد علوی

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

What constant pain this loneliness you may not believe

Like from mountains drawing milk, is passing morn to eve

مرزا غالب

ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ

ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا

احمد مشتاق

تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے

جب تاروں بھری رات کا احساس ہوا ہے

نسیم شاہجہانپوری

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں

یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا

سلیم احمد

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

مرزا غالب

اکیلا اس کو نہ چھوڑا جو گھر سے نکلا وہ

ہر اک بہانے سے میں اس صنم کے ساتھ رہا

نظیر اکبرآبادی

یادوں کی محفل میں کھو کر

دل اپنا تنہا تنہا ہے

آزاد گلاٹی

صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں

دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

مضطر خیرآبادی

دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں

تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ

عادل منصوری