ناصر کاظمی

  • 1923-1972

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,او میرے مصروف خدا0
0 ا ,پچھلے پہر کا سناٹا تھا0
0 ا ,تجھ بن گھر کتنا سونا تھا0
0 ا ,تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا2
0 ا ,تو جب میرے گھر آیا تھا0
0 ا ,خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا0
0 ا ,دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا0
0 ا ,دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا2
0 ا ,دھوپ تھی اور بادل چھایا تھا0
0 ا ,دیار_دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا2
0 ا ,رہ_جنوں میں خدا کا حوالہ کیا کرتا0
0 ا ,زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے_گا0
0 ا ,سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا0
0 ا ,میں نے جب لکھنا سیکھا تھا2
0 ا ,نئے دیس کا رنگ نیا تھا0
0 اب ان سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا0
0 آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے0
0 اس دنیا میں اپنا کیا ہے0
0 اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہم (ردیف .. و)0
0 بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے0
0 پتھر کا وہ شہر بھی کیا تھا0
0 پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے0
0 پل پل کانٹا سا چبھتا تھا0
0 پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے0
0 تری نگاہ کے جادو بکھرتے جاتے ہیں0
0 تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریں0
0 تنہائی کا دکھ گہرا تھا0
0 جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایا0
0 جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے0
0 جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے0
0 حسن کو دل میں چھپا کر دیکھو0
0 خیال ترک تمنا نہ کر سکے تو بھی0
0 درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹے0
0 دن کا پھول ابھی جاگا تھا0
0 دیکھ محبت کا دستور0
0 ر ,رہ_نورد_بیابان_غم صبر کر صبر کر0
0 روتے روتے کون ہنسا تھا0
0 رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ0
0 ساز ہستی کی صدا غور سے سن0
0 شعلہ سا پیچ و تاب میں دیکھا0
0 غم ہے یا خوشی ہے تو0
0 کارواں سست راہبر خاموش0
0 کب تلک مدعا کہے کوئی0
0 کسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہے0
0 کل جنہیں زندگی تھی راس بہت0
0 کنج کنج نغمہ زن بسنت آ گئی0
0 کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے0
0 کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی0
0 کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے0
0 کیوں غم رفتگاں کرے کوئی0
0 گ ,گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ0
0 ل ,گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل1
0 مجھ کو اور کہیں جانا تھا0
0 محروم خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی0
0 میں جب تیرے گھر پہنچا تھا0
0 ن ,اپنی دھن میں رہتا ہوں2
0 ن ,ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں0
0 ن ,تو اسیر_بزم ہے ہم_سخن تجھے ذوق_نالۂ_نے نہیں0
0 ن ,سفر_منزل_شب یاد نہیں0
0 ن ,شہر سنسان ہے کدھر جائیں2
0 ن ,قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں0
0 ن ,کچھ یادگار_شہر_ستم_گر ہی لے چلیں2
0 ن ,نیت_شوق بھر نہ جائے کہیں2
0 ن ,وہ دل_نواز ہے لیکن نظر_شناس نہیں2
0 ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا0
0 نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں0
0 ہ ,گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ3
0 و ,آرائش_خیال بھی ہو دل_کشا بھی ہو0
0 و ,اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو0
0 و ,دن ڈھلا رات پھر آ گئی سو رہو سو رہو0
0 و ,دور_فلک جب دہراتا ہے موسم_گل کی راتوں کو0
0 و ,یہ رات تمہاری ہے چمکتے رہو تارو0
0 وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے0
0 ی ,آج تو بے_سبب اداس ہے جی0
0 ے ,ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے0
0 ے ,پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے2
0 ے ,ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے0
0 ی ,ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائی0
0 ے ,تو ہے یا تیرا سایا ہے0
0 ی ,تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی0
0 ے ,جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے0
0 ے ,جرم_امید کی سزا ہی دے0
0 ی ,حاصل_عشق ترا حسن_پشیماں ہی سہی0
0 ے ,خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے0
0 ی ,دفعتاً دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی0
0 ی ,دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی2
0 ے ,دل میں اور تو کیا رکھا ہے2
0 ے ,دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے0
0 ی ,سناتا ہے کوئی بھولی کہانی0
0 ی ,شبنم_آلود پلک یاد آئی0
0 ی ,غم_فرصتی_خواب_طرب یاد رہے_گی0
0 ے ,فکر_تعمیر_آشیاں بھی ہے0
0 ے ,کچھ تو احساس_زیاں تھا پہلے0
0 ے ,کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے3
0 ی ,کم_فرصتی_خواب_طرب یاد رہے_گی0
0 ے ,کون اس راہ سے گزرتا ہے2
0 ے ,گرفتہ_دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے0
0 ے ,مسلسل بیکلی دل کو رہی ہے0
0 ے ,ممکن نہیں متاع_سخن مجھ سے چھین لے0
0 ے ,میں ہوں رات کا ایک بجا ہے0
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 109 items