آنچ شاعری

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

ناصر کاظمی

آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے

پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی

ناصر کاظمی

کبھی عشق کرو اور پھر دیکھو اس آگ میں جلتے رہنے سے

کبھی دل پر آنچ نہیں آتی کبھی رنگ خراب نہیں ہوتا

سلیم کوثر

چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی

یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے

مضطر خیرآبادی

بدن کی آنچ سے سنولا گئے ہیں پیراہن

میں پھر بھی صبح کے چہرے پہ شام لکھتا ہوں

بیکل اتساہی

درد کی آنچ بنا دیتی ہے دل کو اکسیر

درد سے دل ہے اگر درد نہیں دل بھی نہیں

جاوید وششٹ

شاید اب بھی کوئی شرر باقی ہو زیبؔ

دل کی راکھ سے آنچ آتی ہے کم کم سی

زیب غوری

خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیں

اور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائے

پی.پی سری واستو رند

دم وصال تری آنچ اس طرح آئی

کہ جیسے آگ سلگنے لگے گلابوں میں

انور سدید

متعلقہ موضوعات