منیر نیازی

  • 1923-2006
  • لاھور

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا2
0 ا ,اپنی ہی تیغ_ادا سے آپ گھائل ہو گیا0
0 ا ,اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا0
0 ا ,اس کا نقشہ ایک بے_ترتیب افسانے کا تھا0
0 ا ,اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیا0
0 ا ,اک عالم_ہجراں ہی اب ہم کو پسند آیا0
0 ا ,آئنہ اب جدا نہیں کرتا1
0 ا ,بس ایک ماہ_جنوں_خیز کی ضیا کے سوا1
0 ا ,بے_چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا1
0 ا ,بے_خیالی میں یوں_ہی بس اک ارادہ کر لیا3
0 ا ,بے_گانگی کا ابر_گراں_بار کھل گیا0
0 ا ,پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھا3
0 ا ,جو مجھے بھلا دیں_گے میں انہیں بھلا دوں_گا0
0 ا ,چمن میں رنگ_بہار اترا تو میں نے دیکھا0
0 ا ,خمار_شب میں اسے میں سلام کر بیٹھا0
0 ا ,دشت_باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا0
0 ا ,دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ_گر رہا0
0 ا ,دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتا0
0 ا ,رنج_فراق_یار میں رسوا نہیں ہوا0
0 ا ,زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا2
0 ا ,زور پیدا جسم و جاں کی ناتوانی سے ہوا0
0 ا ,شب_ماہتاب نے شہ_نشیں پہ عجیب گل سا کھلا دیا0
0 ا ,شب_وصال میں دوری کا خواب کیوں آیا0
0 ا ,غیروں سے مل کے ہی سہی بے_باک تو ہوا0
0 ا ,میری ساری زندگی کو بے_ثمر اس نے کیا0
0 ا ,نام بے_حد تھے مگر ان کا نشاں کوئی نہ تھا0
0 ا ,ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا0
0 ا ,ہے اس گل_رنگ کا دیوار ہونا0
0 ا ,وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا0
0 ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے0
0 اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہے0
0 بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئی0
0 ت ,امتحاں ہم نے دیئے اس دار_فانی میں بہت1
0 ت ,مکاں میں قید_صدا کی دہشت0
0 ح ,مثال_سنگ کھڑا ہے اسی حسیں کی طرح0
0 دل کو حال قرار میں دیکھا0
0 ر ,دل خوف میں ہے عالم_فانی کو دیکھ کر0
0 ر ,کوئی داغ ہے مرے نام پر0
0 رنگوں کی وحشتوں کا تماشا تھی بام شام0
0 رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھ0
0 شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا0
0 ف ,دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف0
0 ف ,روشنی در روشنی ہے اس طرف0
0 ن ,اک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میں0
0 ن ,ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروں0
0 ن ,تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں1
0 ن ,جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیں0
0 ن ,جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں2
0 ن ,دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیں0
0 ن ,ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں0
0 ن ,ساعت_ہجراں ہے اب کیسے جہانوں میں رہوں0
0 ن ,سائے گھٹتے جاتے ہیں0
0 ن ,سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں1
0 ن ,شہر پربت بحر_و_بر کو چھوڑتا جاتا ہوں میں0
0 ن ,غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں2
0 ن ,یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں1
0 نیل فلک کے اسم میں نقش اسیر کے سبب0
0 ہ ,اگا سبزہ در_و_دیوار پر آہستہ آہستہ1
0 ھ ,تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں اب باہر آ کر دیکھ2
0 و ,اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو2
0 و ,اشک_رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو2
0 و ,ان سے نین ملا کے دیکھو2
0 و ,چاند نکلا ہے سر_قریۂ_ظلمت دیکھو0
0 و ,سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو0
0 و ,ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو0
0 ی ,آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی3
0 ے ,اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہے0
0 ے ,اس شہر_سنگ_دل کو جلا دینا چاہئے0
0 ی ,اور ہیں کتنی منزلیں باقی3
0 ے ,ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنے0
0 ی ,آئی ہے اب یاد کیا رات اک بیتے سال کی0
0 ے ,بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے0
0 ی ,پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھی0
0 ے ,تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھے0
0 ی ,تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملی2
0 ے ,جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کے2
0 ی ,خواب_و_خیال_گل سے کدھر جائے آدمی0
0 ی ,خواب_و_خیال_گل سے کدھر جائے آدمی0
0 ے ,خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے0
0 ے ,خیال_یکتا میں خواب اتنے0
0 ے ,دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے0
0 ی ,رات اتنی جا چکی ہے اور سونا ہے ابھی0
0 ی ,ردا اس چمن کی اڑا لے گئی0
0 ی ,سارے منظر ایک جیسے ساری باتیں ایک سی1
0 ی ,صحن کو چمکا گئی بیلوں کو گیلا کر گئی0
0 ے ,کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے0
0 ی ,کوئی حد نہیں ہے کمال کی1
0 ے ,محفل_آرا تھے مگر پھر کم_نما ہوتے گئے0
0 ے ,نشیب_وہم فراز_گریز_پا کے لیے0
0 ے ,نواح_وسعت_میداں میں حیرانی بہت ہے0
0 ی ,ہے شکل تیری گلاب جیسی0
0 ے ,وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے0
0 ے ,یہ آنکھ کیوں ہے یہ ہاتھ کیا ہے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 93 of 93 items