وصل پر شاعری

محبوب سے وصال کی آرزو تو آپ سب نے پال رکھی ہوگی لیکن وہ آرزو ہی کیا جو پوری ہو جائے ۔ شاعری میں بھی آ پ دیکھیں گے کہ بچارا عاشق عمر بھر وصال کی ایک ناکام خواہش میں ہی جیتا رہتا ہے ۔ یہاں ہم نے کچھ ایسے اشعار جمع کئے ہیں جو ہجر و وصال کی اس دلچسپ کہانی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے موڑ بھی ہیں جو آپ کو حیران کر دیں گے ۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

فیض احمد فیض

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

مرزا غالب

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

فیض احمد فیض

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

امیر مینائی

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے

نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

بشیر بدر

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

داغؔ دہلوی

چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ساحر لدھیانوی

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثاراختر

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

فراق گورکھپوری

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

میر تقی میر

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اختر شیرانی

وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ

جاگنا رات بھر مصیبت ہے

whether in blissful union or in separation

staying up all night, is a botheration

whether in blissful union or in separation

staying up all night, is a botheration

اکبر الہ آبادی

گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے

گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے

شہزاد احمد

پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا

پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

امیر مینائی

فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی

یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے

احمد فراز

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

لالہ مادھو رام جوہر

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے

جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

معین شاداب

تم کہاں وصل کہاں وصل کی امید کہاں

دل کے بہکانے کو اک بات بنا رکھی ہے

آغا شاعر قزلباش

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

مضطر خیرآبادی

کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیا

یوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں

اسعد بدایونی

دوست دل رکھنے کو کرتے ہیں بہانے کیا کیا

روز جھوٹی خبر وصل سنا جاتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید

کھارے پانی سے دال گلتی نہیں

شیخ قدرت اللہ قدرت

ملنے کی یہ کون گھڑی تھی

باہر ہجر کی رات کھڑی تھی

احمد مشتاق

آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیے

وصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیے

لالہ مادھو رام جوہر

کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔ

بہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لینا

حسرتؔ موہانی

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی

ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

جلال الدین اکبر

میں سمجھتا ہوں کہ ہے جنت و دوزخ کیا چیز

ایک ہے وصل ترا ایک ہے فرقت تیری

جلیل مانک پوری

جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے

وہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز

نوح ناروی

اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے

موسلا دھار برس میری جان

راجیندر منچندا بانی

آنکھیں بتا رہی ہیں کہ جاگے ہو رات کو

ان ساغروں میں بوئے شراب وصال ہے

جلیل مانک پوری

شب وصل کی کیا کہوں داستاں

زباں تھک گئی گفتگو رہ گئی

داغؔ دہلوی

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

امیر مینائی

اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دے

پھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے

just one night give these deprived the joy of company

thereafter if you wish merge paradise and purgatory

just one night give these deprived the joy of company

thereafter if you wish merge paradise and purgatory

جلالؔ لکھنوی

خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے

وصل کی شب نہ سہی ہجر کا ہنگام تو ہے

حسن نعیم

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

حسرتؔ موہانی

کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے

ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں

فراق گورکھپوری

اسے خبر تھی کہ ہم وصال اور ہجر اک ساتھ چاہتے ہیں

تو اس نے آدھا اجاڑ رکھا ہے اور آدھا بنا دیا ہے

فرحت احساس

او وصل میں منہ چھپانے والے

یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا

حسن بریلوی

دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو

ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے

امیر مینائی

اسے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا

وہ قربتوں کی تپش فاصلے میں رکھتی ہے

خالد یوسف

ہر عشق کے منظر میں تھا اک ہجر کا منظر

اک وصل کا منظر کسی منظر میں نہیں تھا

عقیل عباس جعفری

ہجر اک وقفۂ بیدار ہے دو نیندوں میں

وصل اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں

احمد مشتاق

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

حیدر علی آتش

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے

حیدر قریشی

دیکھ کر طول شب ہجر دعا کرتا ہوں

وصل کے روز سے بھی عمر مری کم ہو جائے

مرزارضا برق ؔ

اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے

ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا

فضا ابن فیضی

رہا خواب میں ان سے شب بھر وصال

مرے بخت جاگے میں سویا کیا

امیر مینائی