ADVERTISEMENT

اشعار پربیدار

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجر ناظم علی خان

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

علامہ اقبال

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

رات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا

حیدر علی آتش

ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی

سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی
ADVERTISEMENT

جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو سوتے ہیں

مگر جو جاگتے ہیں ان میں بھی بیدار کتنے ہیں

ابو المجاہد زاہد

ہجر اک وقفۂ بیدار ہے دو نیندوں میں

وصل اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں

احمد مشتاق

وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا

میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ

جلیل مانک پوری

کوئی تو رات کو دیکھے گا جواں ہوتے ہوئے

اس بھرے شہر میں بے دار کوئی تو ہوگا

شہزاد احمد
ADVERTISEMENT

یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ

سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے

جگر مراد آبادی

شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے

مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے

فگار اناوی

نہ جانے کیسی نگاہوں سے موت نے دیکھا

ہوئی ہے نیند سے بیدار زندگی کہ میں ہوں

صائمہ اسما

اب جس دل خوابیدہ کی کھلتی نہیں آنکھیں

راتوں کو سرہانے مرے بے دار یہی تھا

مصحفی غلام ہمدانی
ADVERTISEMENT

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے

اصغر گونڈوی

وہ شور ہوتا ہے خوابوں میں آفتابؔ حسینؔ

کہ خود کو نیند سے بیدار کرنے لگتا ہوں

آفتاب حسین

محفل عشق میں وہ نازش دوراں آیا

اے گدا خواب سے بیدار کہ سلطاں آیا

جوشؔ ملیح آبادی

تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں

تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں

ولی عزلت
ADVERTISEMENT

محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیں

بیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میں

پنڈت جواہر ناتھ ساقی