ADVERTISEMENT

اشعار پرخوشی

زندگی میں مستقل کیفیت

دکھ اورغم کی ہے ۔ خوشی کے لمحے بہت عارضی ہوتے ہیں خوشی اپنی انتہا پرپہنچ کرایک اورنئے دکھ کو پیدا کرلیتی ہے ۔ شاعروں نے زندگی کے ان تمام پہلوؤں پرشاعری کی ہے ۔ اس شاعری میں خوشی کی تلاش کا مرحلہ ایک نا ختم ہونے والامرحلہ ثابت ہوتا ہے ۔ ہمارایہ انتخاب زندگی کی ان بنیادی سچائیوں کےعرفان کی رودا ہے ۔

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں

میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا

ساحر لدھیانوی

ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی

ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا

آزاد گلاٹی

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس

سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

خمارؔ بارہ بنکوی
ADVERTISEMENT

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

قتیل شفائی

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے

احسن مارہروی

ارے او آسماں والے بتا اس میں برا کیا ہے

خوشی کے چار جھونکے گر ادھر سے بھی گزر جائیں

ساحر لدھیانوی

میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی

کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا

عبد الحمید عدم
ADVERTISEMENT

مسرت زندگی کا دوسرا نام

مسرت کی تمنا مستقل غم

جگر مراد آبادی

وہ دل لے کے خوش ہیں مجھے یہ خوشی ہے

کہ پاس ان کے رہتا ہوں میں دور ہو کر

جلیل مانک پوری

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

زندگی اک حسین سنگم ہے

علی جواد زیدی

تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری

تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے

ابو المجاہد زاہد
ADVERTISEMENT

سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز

ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے

نامعلوم

پھر دے کے خوشی ہم اسے ناشاد کریں کیوں

غم ہی سے طبیعت ہے اگر شاد کسی کی

حفیظ جالندھری

اگر تیری خوشی ہے تیرے بندوں کی مسرت میں

تو اے میرے خدا تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا

ہری چند اختر

جیسے اس کا کبھی یہ گھر ہی نہ تھا

دل میں برسوں خوشی نہیں آتی

جلیل مانک پوری
ADVERTISEMENT

صوت کیا شے ہے خامشی کیا ہے

غم کسے کہتے ہیں خوشی کیا ہے

فرحت شہزاد

تیرے آنے سے یو خوشی ہے دل

جوں کہ بلبل بہار کی خاطر

شیخ ظہور الدین حاتم

وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا

میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ

جلیل مانک پوری

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے

تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے

فاضل جمیلی
ADVERTISEMENT

ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے

ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے

غلام حسین ساجد

کچھ اس ادا سے محبت شناس ہونا ہے

خوشی کے باب میں مجھ کو اداس ہونا ہے

راہل جھا