Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فریب پر اشعار

معشوق کی ایک صفت اس

کا فریبی ہونا بھی ہے ۔ وہ ہر معاملے میں دھوکے باز ثابت ہوتا ہے ۔ وصل کا وعدہ کرتا ہے لیکن کبھی وفا نہیں کرتا ہے ۔ یہاں معشوق کے فریب کی مختلف شکلوں کو موضوع بنانے والے کچھ شعروں کا انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں انہیں پڑھئے اور معشوق کی ان چالاکیوں سے لطف اٹھائیے ۔

وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا

سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

اختر نظمی

ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

فنا نظامی کانپوری

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

افضل خان

مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا

اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے

ساقی فاروقی

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا

میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

زیب غوری

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے

وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

فراق گورکھپوری

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

فراق گورکھپوری

فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے

وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

ندا فاضلی

عاشقی میں بہت ضروری ہے

بے وفائی کبھی کبھی کرنا

بشیر بدر

ہم اسے یاد بہت آئیں گے

جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

قتیل شفائی

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

ماہر القادری

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

بہزاد لکھنوی

آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب

خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے

اقبال عظیم

دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا

مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی

شوکت تھانوی

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

قتیل شفائی

اک سفر میں کوئی دو بار نہیں لٹ سکتا

اب دوبارہ تری چاہت نہیں کی جا سکتی

جمال احسانی

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

قتیل شفائی

سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے

دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے

لالہ مادھو رام جوہر

اک برس بھی ابھی نہیں گزرا

کتنی جلدی بدل گئے چہرے

کیف احمد صدیقی

یار میں اتنا بھوکا ہوں

دھوکا بھی کھا لیتا ہوں

عکس سمستی پوری

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

خالد شریف

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر

یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

جاں نثار اختر

اے مجھ کو فریب دینے والے

میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

اطہر نفیس

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے

آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

حبیب جالب

کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے

کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

نجیب احمد

ہاتھ چھڑا کر جانے والے

میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا

خالد معین

چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو

کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

اختر ہوشیارپوری

ایسے ملا ہے ہم سے شناسا کبھی نہ تھا

وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا

خمار فاروقی

دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہو

جو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا

فاطمہ حسن

گن رہا ہوں حرف ان کے عہد کے

مجھ کو دھوکا دے رہی ہے یاد کیا

عزیز حیدرآبادی

اکثر ایسا بھی محبت میں ہوا کرتا ہے

کہ سمجھ بوجھ کے کھا جاتا ہے دھوکا کوئی

مظہر امام

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا

فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری

مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب

وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے

اختر علی اختر

عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو

عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے

عرفان صدیقی

مجھے اب آپ نے چھوڑا کہ میں نے

ادھر تو دیکھیے کس نے دغا کی

لالہ مادھو رام جوہر

یہ بھی اک دھوکا تھا نیرنگ طلسم عقل کا

اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے

حفیظ جالندھری
بولیے