Najeeb Ahmad's Photo'

نجیب احمد

1948 | پاکستان

غزل 31

اشعار 15

کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے

کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ

آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں

وہی رشتے وہی ناطے وہی غم

بدن سے روح تک اکتا گئی تھی

پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی

لیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے

موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی

روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی

تصویری شاعری 1

تیرے ہمدم ترے ہم_راز ہوا کرتے تھے ہم ترے ساتھ ترا ذکر کیا کرتے تھے ڈھونڈ لیتے تھے لکیروں میں محبت کی لکیر ان_کہی بات پہ سو جھگڑے کیا کرتے تھے اک ترے لمس کی خوشبو کو پکڑنے کے لئے تتلیاں ہاتھ سے ہم چھوڑ دیا کرتے تھے وصل کی دھوپ بڑی سرد ہوا کرتی تھی ہم ترے ہجر کی چھاؤں میں جلا کرتے تھے تو نے اے سنگ_دلی! آج جسے دیکھا ہے ہم اسے دیکھ کے دل تھام لیا کرتے تھے

 

مزید دیکھیے