Habib Jalib's Photo'

حبیب جالب

1928 - 1993 | لاہور, پاکستان

مقبول انقلابی پاکستانی شاعر ، سیاسی جبر کی مخالفت کے لئے مشہور

مقبول انقلابی پاکستانی شاعر ، سیاسی جبر کی مخالفت کے لئے مشہور

غزل 72

اشعار 25

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں

دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری

ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو

جستجو آج بھی اسی کی ہے

قطعہ 17

کتاب 11

عہد سزا

 

2001

برگ آوارہ

 

 

برگ آوارہ

 

 

برگ آوارہ

 

1977

حبیب جالب: گھر کی گواہی

 

1994

حرف سردار

 

1987

حرف سردار

 

1986

اس شہر خوابی میں

 

1990

کلیات حبیب جالب

 

1993

عالمی اردو ادب،دہلی

حبیب جالب نمبر: جلد۔009

1994

تصویری شاعری 10

ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ دیر تک ان کا انتظار رہا

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے تری نگاہ_پشیماں کو کیسے دیکھوں_گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورت_حالات ہو گئی پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر یہ کیسی شام_خرابات ہو گئی پیارے وفا کا نام نہ لے_گا کوئی زمانے میں ہم اہل_دل کو اگر مات ہو گئی پیارے تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ الگ_تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح_بے_نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ_دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے_گا تمہارا فسوں چارہ_گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں تم نہیں چارہ_گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

 

ویڈیو 33

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

Sar-e-Mimber Wo Khwabon Ke Mehal Tameer Karte Hein

حبیب جالب

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں

حبیب جالب

بگیا لہولہان

ہریالی کو آنکھیں ترسیں بگیا لہولہان حبیب جالب

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

حبیب جالب

دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے حبیب جالب

ریفرنڈم

شہر میں ہو کا عالم تھا حبیب جالب

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

حبیب جالب

صحافی سے

قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال حبیب جالب

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا حبیب جالب

مشیر

میں نے اس سے یہ کہا حبیب جالب

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حبیب جالب

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حبیب جالب

میرؔ_و_غالبؔ بنے یگانہؔ بنے

حبیب جالب

وہی حالات ہیں فقیروں کے

حبیب جالب

ہم نے سنا تھا صحن‌_چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

حبیب جالب

آڈیو 16

بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت_نشیں تھا

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • احسان دانش احسان دانش ہم عصر
  • علی سردار جعفری علی سردار جعفری ہم عصر
  • زہرا نگاہ زہرا نگاہ ہم عصر
  • انور خلیل انور خلیل ہم عصر
  • احمد فراز احمد فراز ہم عصر

"لاہور" کے مزید شعرا

  • شہزاد احمد شہزاد احمد
  • منیر نیازی منیر نیازی
  • ناصر کاظمی ناصر کاظمی
  • فیض احمد فیض فیض احمد فیض
  • اختر شیرانی اختر شیرانی
  • وصی شاہ وصی شاہ
  • صوفی تبسم صوفی تبسم
  • نبیل احمد نبیل نبیل احمد نبیل
  • سیف الدین سیف سیف الدین سیف
  • ساغر صدیقی ساغر صدیقی