Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تجربہ پر اشعار

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا

میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

زیب غوری

ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینا

لگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیں

نفس انبالوی

بھلے ہی لاکھ حوالوں کے ساتھ کہتے ہیں

مگر وہ صرف کتابوں کی بات کہتے ہیں

صدا انبالوی

اس کو دنیا دار بنایا

دیکھ رکھی تھی دنیا ہم نے

دپیش شرما سوبھری

دھوکے کھا کے سیکھا ہے

دھوکا کیسے دینا ہے

انعم ظامی

بس ٹوٹی کشتی ہی بتلا سکتی ہے

اک دریا کی کتنی شکلیں ہوتی ہیں

دپیش شرما سوبھری

تمام پچھلی محبتیں بے نقاب ہوں گی

نئے تعلق میں تجربہ بولنے لگا ہے

عدنان نصیر

اب دل میں ہوس نام کی گندم نہیں اگتی

یہ کھیت عجب سیم زدہ کر دیا اس نے

اسامہ ضوریز

ہیں کچھ نقاد ایسے بھی کہ جو تہہ تک نہیں جاتے

حواشی دیکھتے ہیں متن سارا چھوڑ دیتے ہیں

ڈاکٹر اعجاز رسول

کوئی بھی چہرہ یہاں قابل وثوق نہیں

رفاقتوں میں بھی اعجازؔ فاصلہ رکھیے

ڈاکٹر اعجاز رسول
بولیے