ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینا
لگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیں
بھلے ہی لاکھ حوالوں کے ساتھ کہتے ہیں
مگر وہ صرف کتابوں کی بات کہتے ہیں
-
موضوع : کتاب
اس کو دنیا دار بنایا
دیکھ رکھی تھی دنیا ہم نے
بس ٹوٹی کشتی ہی بتلا سکتی ہے
اک دریا کی کتنی شکلیں ہوتی ہیں
تمام پچھلی محبتیں بے نقاب ہوں گی
نئے تعلق میں تجربہ بولنے لگا ہے
اب دل میں ہوس نام کی گندم نہیں اگتی
یہ کھیت عجب سیم زدہ کر دیا اس نے
ہیں کچھ نقاد ایسے بھی کہ جو تہہ تک نہیں جاتے
حواشی دیکھتے ہیں متن سارا چھوڑ دیتے ہیں
کوئی بھی چہرہ یہاں قابل وثوق نہیں
رفاقتوں میں بھی اعجازؔ فاصلہ رکھیے