ADVERTISEMENT

اشعار پرکتاب

کتاب کو مرکز میں رکھ

کر کی جانے والی شاعری کے بہت سے پہلو ہیں ۔ کتاب محبوب کے چہرے کی تشبیہ میں بھی کام آتی ہے اورعام انسانی زندگی میں روشنی کی ایک علامت کے طور پر بھی اس کو برتا گیا ہے ۔ یہ شاعری آپ کو اس طور پر بھی حیران کرے گی کہ ہم اپنی عام زندگی میں چیزوں کے بارے میں کتنا محدود سوچتے ہیں اورتخلیقی سطح پروہی چھوٹی چھوٹی چیزیں معانی وموضوعات کے کس قدر وسیع دائرے کو جنم دے دیتی ہیں ۔ کتاب کے اس حیرت کدے میں داخل ہوئیے ۔

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

ندا فاضلی

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے

دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا

بشیر بدر

کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو

کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

عادل منصوری
ADVERTISEMENT

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو

ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

اعجاز توکل

کتابیں بھی بالکل میری طرح ہیں

الفاظ سے بھرپور مگر خاموش

نامعلوم

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ

اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

افتخار عارف

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

نظیر باقری
ADVERTISEMENT

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ

میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

جگر مراد آبادی

جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن

زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

ظفر صہبائی

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا

پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

شکیب جلالی

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو

کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

علامہ اقبال
ADVERTISEMENT

کچھ اور سبق ہم کو زمانے نے سکھائے

کچھ اور سبق ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے

ہستی مل ہستی

کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں

کبھی گم ہیں کتاب آنکھوں میں

محمد علوی

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو

جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

نامعلوم

وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل

نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

افتخار عارف
ADVERTISEMENT

بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے

کتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز

نظیر اکبرآبادی

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں

ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

پریم بھنڈاری

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

غلام محمد قاصر

سب کتابوں کے کھل گئے معنی

جب سے دیکھی نظیرؔ دل کی کتاب

نظیر اکبرآبادی
ADVERTISEMENT

میں اس کے بدن کی مقدس کتاب

نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا

محمد علوی

کمرے میں مزے کی روشنی ہو

اچھی سی کوئی کتاب دیکھوں

محمد علوی

وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں

وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

حفیظ بنارسی

کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے

ورق ورق ترا چہرا دکھائی دیتا ہے

احمد عقیل روبی
ADVERTISEMENT

مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے

قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے

نظام رامپوری

جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہ

ہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا

اسعد بدایونی

رکھ دی ہے اس نے کھول کے خود جسم کی کتاب

سادہ ورق پہ لے کوئی منظر اتار دے

پریم کمار نظر

کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میری

کتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

وزیر آغا
ADVERTISEMENT

الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا

لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ

زیب غوری

فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے

درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

نصیر احمد ناصر

کتاب حسن ہے تو مل کھلی کتاب کی طرح

یہی کتاب تو مر مر کے میں نے ازبر کی

شاذ تمکنت

ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا

کتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا

فضا ابن فیضی
ADVERTISEMENT