استاد پر اشعار
استاد کو موضوع بنانے
والے یہ اشعار استاد کی اہمیت اور شاگرد و استاد کے درمیان کے رشتوں کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ نہ صرف کچھ شاگردوں کی تربیت بلکہ معاشرتی اور قومی تعمیر میں استاد کا کیا رول ہوتا ہے ۔ اس شاعری کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ
استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
-
موضوع : میر تقی میر
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
-
موضوع : علم
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ
جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں
مدرسہ میرا میری ذات میں ہے
خود معلم ہوں خود کتاب ہوں میں
استاد کے احسان کا کر شکر منیرؔ آج
کی اہل سخن نے تری تعریف بڑی بات
اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ
مانتے ہیں سب مرے استاد کو
اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب
لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
غالب کے نزدیک سمجھ رکھنے والوں کی تربیت آرام سے نہیں، بلکہ حوادث کی ٹھوکروں سے ہوتی ہے۔ طوفان اور موج کا لطمہ زندگی کے لگاتار جھٹکوں کی علامت ہیں۔ یہ صدمے استاد کی سختی کی طرح انسان کو سنوارتے اور بصیرت پیدا کرتے ہیں۔
فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے
درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
-
موضوع : کتاب
سچ یہ ہے ہم ہی محبت کا سبق پڑھ نہ سکے
ورنہ ان پڑھ تو نہ تھے ہم کو پڑھانے والے
محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ
کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا
-
موضوع : کلکتہ
یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو
تو زاہد پیر نابالغ ہے بے تہہ تجھ کو کیا آوے
Interpretation:
Rekhta AI
میر کے نزدیک عشق محض نصیحتوں یا ظاہر داری سے نہیں آتا، یہ باطن کی پیدائشی کیفیت ہے۔ وہ زاہد کو طنزاً “پیرِ نابالغ” کہہ کر بتاتے ہیں کہ جس میں گہرائی اور سلوک کی پختگی نہ ہو، وہ عشق کی حقیقت نہیں پا سکتا۔ یہاں عمر اور وعظ کے مقابلے میں دل کی رسائی اور تجربے کو معیار بنایا گیا ہے۔
مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے
میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
-
موضوع : آواز
شاگرد طرز خندہ زنی میں ہے گل ترا
استاد عندلیب ہیں سوز و فغاں میں ہم
-
موضوع : طالب علم
اساتذہ نے مرا ہاتھ تھام رکھا ہے
اسی لئے تو میں پہنچا ہوں اپنی منزل پر
پڑھنے والا بھی تو کرتا ہے کسی سے منسوب
سبھی کردار کہانی کے نہیں ہوتے ہیں
ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں
کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ عشق کی دنیا عام دنیا سے مختلف ہے اور یہاں کے اصول بھی جدا ہیں۔ محبت کے مدرسے میں جو سبق ملتا ہے وہ کتابوں میں نہیں ہوتا، اس لیے یہاں کے معلم اور ادیب بھی روایتی دنیاوی استادوں سے بالکل الگ اور انوکھے ہوتے ہیں۔
شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر
کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا
-
موضوع : درد
تو نے استاد کو استاد نہیں سمجھا ہے
جا تجھے کوئی سبق یاد نہیں ہو سکتا