Hafeez Jaunpuri's Photo'

حفیظ جونپوری

1865 - 1918 | جون پور, ہندوستان

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

غزل 70

اشعار 42

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

کعبہ کے ڈھانے والے وہ اور لوگ ہوں گے

ہم کفر جانتے ہیں دل توڑنا کسی کا

  • شیئر کیجیے

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے

لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 4

دیوان حفیظ

غمگسار

1903

دیوان حفیظ باسم تاریخی خمخانۂ دل

 

1912

دیوان حفیظ

 

1903

انتخاب غزلیات حفیظ جونپوری

 

1989

 

آڈیو 10

ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • امیر مینائی امیر مینائی استاد

شعرا کے مزید "جون پور"

  • احمد شناس احمد شناس
  • والی آسی والی آسی
  • ابو الحسنات حقی ابو الحسنات حقی
  • اسلم محمود اسلم محمود
  • خورشید طلب خورشید طلب
  • اختر پیامی اختر پیامی
  • ارشد عبد الحمید ارشد عبد الحمید
  • انجم لدھیانوی انجم لدھیانوی
  • فرحان سالم فرحان سالم
  • نظیر باقری نظیر باقری