Hafeez Jaunpuri's Photo'

حفیظ جونپوری

1865 - 1918 | جون پور, ہندوستان

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

غزل 70

اشعار 41

کعبہ کے ڈھانے والے وہ اور لوگ ہوں گے

ہم کفر جانتے ہیں دل توڑنا کسی کا

  • شیئر کیجیے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے

لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 2

دیوان حفیظ

غمگسار

1903

انتخاب غزلیات حفیظ جونپوری

 

1989

 

آڈیو 10

ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا کے مزید "جون پور"

  • عبرت مچھلی شہری عبرت مچھلی شہری
  • شفیق جونپوری شفیق جونپوری
  • وامق جونپوری وامق جونپوری
  • شاعر جمالی شاعر جمالی
  • نرمل ندیم نرمل ندیم
  • رضا جونپوری رضا جونپوری
  • اصغر مہدی ہوش اصغر مہدی ہوش
  • شہیر مچھلی شہری شہیر مچھلی شہری
  • شوکت پردیسی شوکت پردیسی
  • شفا کجگاؤنوی شفا کجگاؤنوی

Added to your favorites

Removed from your favorites