Hafeez Jaunpuri's Photo'

حفیظ جونپوری

1865 - 1918 | جون پور, ہندوستان

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

غزل 69

اشعار 43

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے

لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

  • شیئر کیجیے

کعبہ کے ڈھانے والے وہ اور لوگ ہوں گے

ہم کفر جانتے ہیں دل توڑنا کسی کا

  • شیئر کیجیے

کتاب 5

دیوان حفیظ

غمگسار

1903

دیوان حفیظ باسم تاریخی خمخانۂ دل

 

1912

دیوان حفیظ

 

1903

حفیظ جون پوری حیات اور شاعری

 

2006

انتخاب غزلیات حفیظ جونپوری

 

1989

 

آڈیو 10

ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • امیر مینائی امیر مینائی استاد

"جون پور" کے مزید شعرا

  • عبرت مچھلی شہری عبرت مچھلی شہری
  • شفیق جونپوری شفیق جونپوری
  • وامق جونپوری وامق جونپوری
  • شاعر جمالی شاعر جمالی
  • متین سروش متین سروش
  • نرمل ندیم نرمل ندیم
  • اصغر مہدی ہوش اصغر مہدی ہوش
  • رضا جونپوری رضا جونپوری
  • شہیر مچھلی شہری شہیر مچھلی شہری
  • شوکت پردیسی شوکت پردیسی