علم پر اشعار
علم کو موضوع بنانے والے
جن شعروں کا انتخاب یہاں پیش کیا جارہا ہے اس سے زندگی میں علم کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ ایسے پہلو بھی ان شعروں میں موجود ہیں جو علم کے موضوع کے سیاق میں بالکل نئے اوراچھوتے ہیں ۔ علم کے ذریعے پیدا ہونے والی منفیت پر عموما کم غور کیا جاتا ۔ یہ شاعری علم کے ڈسکورس کو ایک نئے ڈھنگ سے دیکھتی ہے اور ترتیب دیتی ہے ۔
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
-
موضوعات : کتاباور 1 مزید
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
-
موضوع : مذہب
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
علم حاصل کرنے میں بھی ایک خاص لذّت اور سرمستی ہوتی ہے۔
مگر یہ ایسی جنت ہے جس میں دل کو لبھانے والی دلکشی اور راحت موجود نہیں۔
شعر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ علم اپنے اندر سرور رکھتا ہے، لیکن شاعر اسے مکمل نجات یا کامل مسرت نہیں مانتا۔ “جنت” اور “حور” کا استعارہ بتاتا ہے کہ محض عقلی خوشی میں دل کی پوری پیاس نہیں بجھتی۔ اصل کیفیت یہ ہے کہ علم مفید ہے، مگر محبت/روحانیت/حسن کی گرمی کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
عقل ہر وقت نکتہ چینی میں لگی رہتی ہے، اس کے پاس کچھ اور کرنے کی مہلت نہیں۔
اس لیے اپنے عمل کی بنیاد عشق پر رکھو، محض بحث پر نہیں۔
علامہ اقبال یہاں عقل اور عشق کا تقابل کرتے ہیں: عقل تنقید اور شک میں اُلجھ کر رُک جاتی ہے، جبکہ عشق یقین اور حرکت پیدا کرتا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ زندگی میں فیصلہ کن قدم اور بامعنی عمل ضروری ہے، اور اس کی توانائی عشق سے ملتی ہے۔ یوں تنقید کو مقصد نہیں بلکہ راہ کی رکاوٹ دکھایا گیا ہے۔
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
مجھے بس یہی سمجھ آیا کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا، ہائے۔
اور یہ بات بھی مجھے پوری ایک عمر گزرنے کے بعد معلوم ہوئی۔
اس شعر میں زندگی بھر کی تلاش کا حاصل ایک تلخ سچ ہے: آدمی آخرکار اپنی نادانی کو پہچانتا ہے۔ “ہائے” حسرت اور دکھ کو نمایاں کرتا ہے کہ اعتماد اور گمان وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے۔ دوسری مصرع میں “عمر” اس دیر سے آنے والی بصیرت کی علامت ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ دانائی کے نام پر بس انکساری ہاتھ آئی۔
حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو
سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
-
موضوع : استاد
عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے
دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے
-
موضوعات : دلاور 3 مزید
تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ
دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا
عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا
جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا
لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو
ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
انسانیت اور اخلاق ایک الگ خوبی ہے، جبکہ علم کا ہونا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔
طوطے کو جتنا بھی پڑھا لکھا لو، وہ آخر کار جانور ہی رہتا ہے اور انسان نہیں بن جاتا۔
شاعر اس شعر میں علم اور عمل (آدمیت) کے فرق کو واضح کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محض علم حاصل کر لینا انسان کو اشرف نہیں بناتا، جس طرح طوطے کو بولنا سکھانے کے باوجود اس کی جبلت نہیں بدلتی۔ اصل اہمیت کتابی علم کی نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کی ہے۔
ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا
انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت
مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا
مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے
جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا
فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا
وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو
ہمی وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو
ہوا بجھاتی نہیں ہے سلام کرتی ہے
-
موضوع : تعلیم
جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن
صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے
اجالا علم کا پھیلا تو ہے چاروں طرف یارو
بصیرت آدمی کی کچھ مگر کم ہوتی جاتی ہے
-
موضوع : آگہی