Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

علم پر اشعار

علم کو موضوع بنانے والے

جن شعروں کا انتخاب یہاں پیش کیا جارہا ہے اس سے زندگی میں علم کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ ایسے پہلو بھی ان شعروں میں موجود ہیں جو علم کے موضوع کے سیاق میں بالکل نئے اوراچھوتے ہیں ۔ علم کے ذریعے پیدا ہونے والی منفیت پر عموما کم غور کیا جاتا ۔ یہ شاعری علم کے ڈسکورس کو ایک نئے ڈھنگ سے دیکھتی ہے اور ترتیب دیتی ہے ۔

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثار اختر

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

اکبر الہ آبادی

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

علم حاصل کرنے میں بھی ایک خاص لذّت اور سرمستی ہوتی ہے۔

مگر یہ ایسی جنت ہے جس میں دل کو لبھانے والی دلکشی اور راحت موجود نہیں۔

شعر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ علم اپنے اندر سرور رکھتا ہے، لیکن شاعر اسے مکمل نجات یا کامل مسرت نہیں مانتا۔ “جنت” اور “حور” کا استعارہ بتاتا ہے کہ محض عقلی خوشی میں دل کی پوری پیاس نہیں بجھتی۔ اصل کیفیت یہ ہے کہ علم مفید ہے، مگر محبت/روحانیت/حسن کی گرمی کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔

علامہ اقبال

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

عقل ہر وقت نکتہ چینی میں لگی رہتی ہے، اس کے پاس کچھ اور کرنے کی مہلت نہیں۔

اس لیے اپنے عمل کی بنیاد عشق پر رکھو، محض بحث پر نہیں۔

علامہ اقبال یہاں عقل اور عشق کا تقابل کرتے ہیں: عقل تنقید اور شک میں اُلجھ کر رُک جاتی ہے، جبکہ عشق یقین اور حرکت پیدا کرتا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ زندگی میں فیصلہ کن قدم اور بامعنی عمل ضروری ہے، اور اس کی توانائی عشق سے ملتی ہے۔ یوں تنقید کو مقصد نہیں بلکہ راہ کی رکاوٹ دکھایا گیا ہے۔

علامہ اقبال

علم کی ابتدا ہے ہنگامہ

علم کی انتہا ہے خاموشی

فردوس گیاوی

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

مجھے بس یہی سمجھ آیا کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا، ہائے۔

اور یہ بات بھی مجھے پوری ایک عمر گزرنے کے بعد معلوم ہوئی۔

اس شعر میں زندگی بھر کی تلاش کا حاصل ایک تلخ سچ ہے: آدمی آخرکار اپنی نادانی کو پہچانتا ہے۔ “ہائے” حسرت اور دکھ کو نمایاں کرتا ہے کہ اعتماد اور گمان وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے۔ دوسری مصرع میں “عمر” اس دیر سے آنے والی بصیرت کی علامت ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ دانائی کے نام پر بس انکساری ہاتھ آئی۔

میر تقی میر

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

خمار بارہ بنکوی

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

چکبست برج نرائن

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

ماہر القادری

تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ

دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا

عبد الحمید عدم

عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا

جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا

اکبر الہ آبادی

لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو

محمود ایاز

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

انسانیت اور اخلاق ایک الگ خوبی ہے، جبکہ علم کا ہونا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔

طوطے کو جتنا بھی پڑھا لکھا لو، وہ آخر کار جانور ہی رہتا ہے اور انسان نہیں بن جاتا۔

شاعر اس شعر میں علم اور عمل (آدمیت) کے فرق کو واضح کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محض علم حاصل کر لینا انسان کو اشرف نہیں بناتا، جس طرح طوطے کو بولنا سکھانے کے باوجود اس کی جبلت نہیں بدلتی۔ اصل اہمیت کتابی علم کی نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کی ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا

انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

جگن ناتھ آزاد

مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا

مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے

لیاقت جعفری

جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا

فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا

اقبال عظیم

وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر

میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

منیر نیازی

ہمی وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو

ہوا بجھاتی نہیں ہے سلام کرتی ہے

خالد ندیم شانی

جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن

صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے

عبد العزیز خالد

اجالا علم کا پھیلا تو ہے چاروں طرف یارو

بصیرت آدمی کی کچھ مگر کم ہوتی جاتی ہے

صدا انبالوی
بولیے