آگہی پر شاعری

آگہی کلاسیکی شاعری میں کم کم استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آگہی سے وابستہ تصورات جدید دورکے پیدا کردہ ہیں ۔ جدید شاعری نے انسان اوراس کے باطن ، سماج اورکی مختلف شکلوں کے بارے میں جوایک داخلی اورتخلیقی فکرکو راہ دی ہے اس سے ایک نیا منظرنامہ سامنے آیا ہے ۔ انہیں بنیادوں پرجدید شعریات کا اپنا ایک انفراد بھی قائم ہوتا ہے ۔ آگہی کا رشتہ ایک سطح پر تصوف میں حاصل ہونے والی بے خودی سے بھی ملتا ہے ۔ اس انتخاب میں آگہی کے اس سفر کی چند منزلوں کے نشان ہیں ۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

علامہ اقبال

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو

آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

مرزا غالب

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیش

مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

محمد رفیع سودا

عمر جو بے خودی میں گزری ہے

بس وہی آگہی میں گزری ہے

گلزار دہلوی

آگہی سے ملی ہے تنہائی

آ مری جان مجھ کو دھوکا دے

جاوید اختر

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی

ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

جلال الدین اکبر

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

مرزا غالب

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

احمد فراز

خدا کا مطلب ہے خود میں آ تو خود آگہی ہے خدا شناسی

خدا کو خود سے جدا سمجھ کر بھٹک رہا ہے ادھر ادھر کیوں

عامل درویش

جن سے زندہ ہو یقین و آگہی کی آبرو

عشق کی راہوں میں کچھ ایسے گماں کرتے چلو

ساغر صدیقی

یہی آئنہ ہے وہ آئینہ جو لئے ہے جلوۂ آگہی

یہ جو شاعری کا شعور ہے یہ پیمبری کی تلاش ہے

متین نیازی

آگہی بھولنے دیتی نہیں ہستی کا مآل

ٹوٹ کے خواب بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

ممتاز میرزا

پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں

کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے

یعقوب یاور

اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا

بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ

صہبا اختر

ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے

میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے

انور صدیقی

کیا ہو سکے حساب کہ جب آگہی کہے

اب تک تو رائیگانی میں سارا سفر کیا

قاسم یعقوب

جنوں کے کیف و کم سے آگہی تجھ کو نہیں ناصح

گزرتی ہے جو دیوانوں پہ دیوانے سمجھتے ہیں

ذکی کاکوروی

اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ

محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم

اظہر عنایتی

جنوں کی خیر ہو تجھ کو اثرؔ ملا سب کچھ

یہ کیفیت بھی ضروری تھی آگہی کے لیے

اثر اکبرآبادی

آگہی نے دیئے ابہام کے دھوکے کیا کیا

شرح الفاظ جو لکھی تو اشارے لکھے

عذرا وحید

عروج ماہ کو انساں سمجھ گیا لیکن

ہنوز عظمت انساں سے آگہی کم ہے

شاہد صدیقی

ہم آگہی کو روتے ہیں اور آگہی ہمیں

وارفتگئ شوق کہاں لے چلی ہمیں

جاوید کمال رامپوری

جیسے جیسے آگہی بڑھتی گئی ویسے ظہیرؔ

ذہن و دل اک دوسرے سے منفصل ہوتے گئے

ظہیر صدیقی

نہ پوچھئے کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں

جو آگہی کے سبب عیش بندگی سے گئے

عرفان ستار