ADVERTISEMENT

مشورہ پر اشعار

یہاں ہم ان اشعار کا

انتخاب پیش کر رہے ہیں جو زندگی کرنے کی الگ الگ صورتوں میں آپ کی رہنمائی کریں گے ۔ یہ مشورے عام قسم کے مشورے نہیں ہیں بلکہ زندگی کی بنیادی حقیقتوں اور سچائیوں کا شعور حاصل کرنے کے بعد سامنے آنے والے تجربات ہیں ۔ آپ انہیں پڑھئے اور زندگی کے ایک سبق کے طور پر انہیں اخذ کیجئے ۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

ساحر لدھیانوی

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

اسرار الحق مجاز

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

علامہ اقبال
ADVERTISEMENT

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

ندا فاضلی

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

مخدومؔ محی الدین

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

میر تقی میر

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو

محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

افضل خان
ADVERTISEMENT

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے

روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

نامعلوم

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

علامہ اقبال

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر

آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

یہ ذوق کا ایک خوبصورت شعر ہے اور اس میں ذوقؔ نے ایک اہم نکتے والی بات بتائی ہے۔ اگرچہ اس شعر کا اہم لفظ تکلف ہے مگر تکلیف کی رعایت سے آرام بہت تکلیف پیدا کرتے ہیں۔

ذوق اس شعر میں تکلف یعنی بناوٹ کی بدعت پر روشنی ڈالتے ہی۔ بناوٹ وہ چیز ہووتی ہے جس میں حقیقت نہ ہو یعنی جو بناوٹی ہو۔ بناوٹ زندگی کے تمام معاملات میں بھی ہوتی ہے اور رشتوں میں بھی۔ عام معاملات میں بناوٹ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی وہ حیثیت دکھانے کی کوشش کرے جو اصلی نہ ہو اور رشتوں میں بناوٹ سے مراد ایسے جذبات کا اظہار کرنا جو حقیقی نہ ہوں۔ بہرحال معاملہ جو بھی ہے اگر انسان عام معاملات میں بناوٹ سے کام لے تو خود کوو نقصان پہنچاتا ہے اور اگر رشتوں میں بناوٹ سے کام لے تو ایک نہ ایک دن تو بناوٹ کھل ہی جاتی ہے پھر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

رضا ہمدانی
ADVERTISEMENT

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

علامہ اقبال

دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں

دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

حبیب جالب

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اکبر الہ آبادی

پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے

رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا

عزیز لکھنوی
ADVERTISEMENT

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

امجد اسلام امجد

سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا

امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ

کیف بھوپالی

بات کا زخم ہے تلوار کے زخموں سے سوا

کیجیے قتل مگر منہ سے کچھ ارشاد نہ ہو

داغؔ دہلوی

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو

نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو

جعفر ملیح آبادی
ADVERTISEMENT

فراغت سے دنیا میں ہر دم نہ بیٹھو

اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ

الطاف حسین حالی

ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ

ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

عرش صدیقی

خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھی

برے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہے

امیر مینائی

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا

کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

اسماعیل میرٹھی
ADVERTISEMENT

اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل

دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل

بہادر شاہ ظفر

اس سے پہلے کہ لوگ پہچانیں

خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

دواکر راہی

فرصت کار فقط چار گھڑی ہے یارو

یہ نہ سوچو کی ابھی عمر پڑی ہے یارو

جاں نثاراختر

میری ہی جان کے دشمن ہیں نصیحت والے

مجھ کو سمجھاتے ہیں ان کو نہیں سمجھاتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر
ADVERTISEMENT

بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگی

مر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیو

حفیظ میرٹھی

زخم جو تو نے دیے تجھ کو دکھا تو دوں مگر

پاس تیرے بھی نصیحت کے سوا ہے اور کیا

عرفان احمد

اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے

تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے

سلیم احمد

مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو

اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

کیف بھوپالی
ADVERTISEMENT

دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر

گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا

عرش صدیقی

مزرع دنیا میں دانا ہے تو ڈر کر ہاتھ ڈال

ایک دن دینا ہے تجھ کو دانے دانے کا حساب

شیخ ظہور الدین حاتم

نہ گرد و پیش سے اس درجہ بے نیاز گزر

جو بے خبر سے ہیں سب کی خبر بھی رکھتے ہیں

دل ایوبی