Bahadur Shah Zafar's Photo'

بہادر شاہ ظفر

1775 - 1862 | دلی, ہندوستان

آخری مغل بادشاہ ۔ غالب اور ذوق کے ہم عصر

آخری مغل بادشاہ ۔ غالب اور ذوق کے ہم عصر

بہادر شاہ ظفر

غزل 53

اشعار 62

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں

ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

  • شیئر کیجیے

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

  • شیئر کیجیے

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل دغدار میں

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

کتاب 78

بہادر شاہ کا مقدمہ

 

1923

بہادر شاہ کا مقدمہ

 

1937

بہادر شاہ ظفر

 

2012

بہادر شاہ ظفر

 

2013

بہادر شاہ ظفر

 

1965

بہادر شاہ ظفر

ایک مطالعہ

2000

بہادر شاہ ظفر

فن و شخصیت

1965

بہادر شاہ ظفر اور 1857

تاریخی ڈرامہ

2011

بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد

 

 

بہادر شاہ ظفر فن اور شخصیت

 

1967

تصویری شاعری 15

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل وہ جو بیچتے تھے دوائے_دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

حال_دل کیوں کر کریں اپنا بیاں اچھی طرح روبرو ان کے نہیں چلتی زباں اچھی طرح

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل وہ جو بیچتے تھے دوائے_دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

ویڈیو 30

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

مہدی حسن

Aa Kar Ke Meri Kabr Par - Bahadur Shah Zafar

نامعلوم

Ja kahiyo unhi se naseem-e-sahar

سدیپ بنرجی

Yaar Tha Gulzaar Tha Mai Thi Fazaa Thi

عابدہ پروین

Yaar Tha Gulzar Tha (Poet:Bahadur Shah Zafar) Singer:Abida Parveen

عابدہ پروین

مہدی حسن

اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل

مہران امروہی

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

ایم کلیم

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

نامعلوم

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بھارتی وشواناتھن

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

گایتری اشوکن

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

طلعت عزیز

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

مہران امروہی

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

مہران امروہی

سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود

مہران امروہی

شمشیر_برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

حبیب ولی محمد

گئی یک_بہ_یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے

مکیش

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

مہران امروہی

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بہادر شاہ ظفر

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

محمد رفیع

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بہادر شاہ ظفر

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

محمد رفیع

مر گئے اے واہ ان کی ناز_برداری میں ہم

مہران امروہی

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

حبیب ولی محمد

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

مہران امروہی

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے

مہران امروہی

ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ

مہران امروہی

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

مہران امروہی

یا مجھے افسر_شاہانہ بنایا ہوتا

مہران امروہی

یا مجھے افسر_شاہانہ بنایا ہوتا

مہدی حسن

یا مجھے افسر_شاہانہ بنایا ہوتا

بہادر شاہ ظفر

یا مجھے افسر_شاہانہ بنایا ہوتا

حبیب ولی محمد

آڈیو 23

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

تفتہ_جانوں کا علاج اے اہل_دانش اور ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"دلی" کے مزید شعرا

  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • راجیندر منچندا بانی راجیندر منچندا بانی
  • انیس الرحمان انیس الرحمان
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • نسیم دہلوی نسیم دہلوی