امیر مینائی

  • 1829-1900
  • لکھنؤ

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا0
0 ا ,پوچھا نہ جائے_گا جو وطن سے نکل گیا2
0 ا ,جب سے باندھا ہے تصور اس رخ_پر_نور کا2
0 ا ,صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا3
0 ا ,فراق_یار نے بے_چین مجھ کو رات بھر رکھا1
0 ا ,کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا2
0 ا ,مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم_شعار ہوتا0
0 ا ,نہ بے_وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کا2
0 ا ,ہم_سر_زلف قد_حور_شمائل ٹھہرا2
0 ا ,وصل کی شب بھی خفا وہ بت_مغرور رہا2
0 ا ,یارب شب_وصال یہ کیسا گجر بجا0
0 ب ,پلا ساقیا ارغوانی شراب0
0 ب ,ہے خموشی ظلم_چرخ_دیو_پیکر کا جواب0
0 ت ,بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات0
0 چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ0
0 دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں0
0 دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے0
0 ذ ,کیا روکے قضا کے وار تعویذ0
0 ظ ,چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ0
0 ق ,ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق0
0 ن ,اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں3
0 ن ,شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں0
0 ن ,کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں0
0 ن ,گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں0
0 ن ,ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں3
0 ن ,ہم جو مست_شراب ہوتے ہیں2
0 ھ ,دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ0
0 ہ ,سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ1
0 ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا0
0 و ,اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو1
0 و ,پہلے تو مجھے کہا نکالو0
0 ے ,اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے3
0 ی ,پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری0
0 ے ,ترا کیا کام اب دل میں غم_جانانہ آتا ہے0
0 ے ,تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے2
0 ے ,جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے3
0 ے ,قبلۂ_دل کعبۂ_جاں اور ہے0
0 ی ,گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی0
0 ے ,مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے0
0 ے ,میں رو کے آہ کروں_گا جہاں رہے نہ رہے0
0 ی ,ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری3
0 ے ,وعدۂ_وصل اور وہ کچھ بات ہے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 42 of 42 items