نظیر اکبرآبادی

  • 1735-1830

میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور

میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ' ,جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھی (ردیف .. ')0
0 ' ,کہا جو ہم نے ''ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو''0
0 ا ,ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھا0
0 ا ,ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جانا0
0 ا ,ادھر یار جب مہربانی کرے_گا0
0 ا ,اس کے شرار_حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا0
0 ا ,آغوش_تصور میں جب میں نے اسے مسکا0
0 ا ,اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈا0
0 ا ,آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلنا0
0 ا ,بتوں کی مجلس میں شب کو مہ_رو جو اور ٹک بھی قیام کرتا0
0 ا ,بنا ہے اپنے عالم میں وہ کچھ عالم جوانی کا0
0 ا ,بے_جا ہے رہ_عشق میں اے دل گلۂ_پا0
0 ا ,بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا0
0 ا ,پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کا0
0 ا ,تجھے کچھ بھی خدا کا ترس ہے اے سنگ_دل ترسا0
0 ا ,جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگا0
0 ا ,جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیا0
0 ا ,جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیا0
0 ا ,جب ہم_نشیں ہمارا بھی عہد_شباب تھا0
0 ا ,جھمک دکھاتے ہی اس دل_ربا نے لوٹ لیا0
0 ا ,جو پوچھا میں نے یاں آنا مرا منظور رکھیے_گا0
0 ا ,چاہ میں اس کی دل نے ہمارے نام کو چھوڑا نام کیا0
0 ا ,حسن اس شوخ کا اہا_ہاہا0
0 ا ,خیال_یار سدا چشم_نم کے ساتھ رہا0
0 ا ,دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سما0
0 ا ,دل کو چشم_یار نے جب جام_مے اپنا دیا0
0 ا ,دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگا0
0 ا ,دل ہم نے جو چشم_بت_بے_باک سے باندھا0
0 ا ,دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا0
0 ا ,دیکھ لے جو عالم اس کے حسن_بالا_دست کا0
0 ا ,رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کا0
0 ا ,ساقی ظہور_صبح و ترشح ہے نور کا0
0 ا ,سحر جو نکلا میں اپنے گھر سے تو دیکھا اک شوخ حسن والا0
0 ا ,شب_مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلنا0
0 ا ,شہر_دل آباد تھا جب تک وہ شہر_آرا رہا0
0 ا ,شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلا0
0 ا ,شیوۂ_ناز ہوش چھل جانا0
0 ا ,صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کا0
0 ا ,صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کا0
0 ا ,عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑا0
0 ا ,عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کا0
0 ا ,کچھ تو ہوکر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیا0
0 ا ,کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل_بلیا0
0 ا ,کر لیتے الگ ہم تو دل اس شوخ سے کب کا0
0 ا ,کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھا0
0 ا ,کل مرے قتل کو اس ڈھب سے وہ بانکا نکلا0
0 ا ,کلال_گردوں اگر جہاں میں جو خاک میری کا جام کرتا0
0 ا ,کہنے اس شوخ سے دل کا جو میں احوال گیا0
0 ا ,کیا دن تھے وہ جو واں کرم_دلبرانہ تھا0
0 ا ,گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا0
0 ا ,گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیا0
0 ا ,گل_زار ہے داغوں سے یہاں تن_بدن اپنا0
0 ا ,گل_زار ہے داغوں سے یہاں تن_بدن اپنا0
0 ا ,لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیا0
0 ا ,لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھا0
0 ا ,لے کے دل مہر سے پھر رسم_جفا_کاری کیا0
0 ا ,مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار_رعنا0
0 ا ,مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک_حور لے جانا0
0 ا ,مرا دل ہے مشتاق اس گل_بدن کا0
0 ا ,ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلا0
0 ا ,منتظر اس کے دلا تا_بہ_کجا بیٹھنا0
0 ا ,نامۂ_یار جو سحر پہونچا0
0 ا ,نظر پڑا اک بت_پری_وش نرالی سج_دھج نئی ادا کا0
0 ا ,نگہ کے سامنے اس کا جوں_ہی جمال ہوا0
0 ا ,نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام_خدا0
0 ا ,نیچی نگہ کی ہم نے تو اس نے منہ کو چھپانا چھوڑ دیا0
0 ا ,ہو کے مہ وہ تو کسی اور کا ہالا نکلا0
0 ا ,ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشا0
0 ا ,ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا0
0 ا ,ہوش_و_خرد کو کر دیا ترک اور شغل جو کچھ تھا چھوڑ دیا0
0 ا ,ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں_گا0
0 ا ,ہیں دم کے ساتھ عشرت و عسرت ہزارہا0
0 ا ,یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہا0
0 ا ,یہ حسب_عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کا0
0 ا ,یہ دل_ناداں ہمارا بھی عجب دیوانہ تھا0
0 ب ,بحر ہستی میں صحبت احباب0
0 ب ,بزم_طرب وقت_عیش ساقی و نقل و شراب0
0 ب ,ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب0
0 ب ,تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب0
0 ب ,جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ_لقا کو عیش_و_طرب0
0 ب ,دیا جو ساقی نے ساغر_مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب0
0 ب ,ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی اب0
0 ب ,کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے اب0
0 ب ,کس کے لیے کیجئے جامۂ_دیبا_طلب0
0 ب ,کہا یہ آج ہمیں فہم نے سنو صاحب0
0 ب ,نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ_پر_آب میں خواب0
0 ب ,ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے_مطلب0
0 ب ,ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو_سیم_بر کی طلب0
0 ب ,یہ جواہرخانۂ_دنیا جو ہے با_آب_و_تاب0
0 ب ,یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحب0
0 پ ,دل کو لے کر ہم سے اب جاں بھی طلب کرتے ہیں آپ0
0 پ ,رکھتا ہے صدا ہونٹ کو جوں گل کی کلی چپ0
0 پ ,کب غیر نے یہ ستم سہے چپ0
0 ت ,تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرت0
0 ت ,قمر نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت0
0 ت ,کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت0
0 ت ,کھینچ کر اس ماہ_رو کو آج یاں لائی ہے رات0
0 ت ,کیا نام_خدا اپنی بھی رسوائی ہے کمبخت0
0 ٹ ,گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف_یار لپٹ0
0 ج ,کرنے لگا دل طلب جب وہ بت_خوش_مزاج0
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 225 items