Prem Bhandari's Photo'

پریم بھنڈاری

1949

پریم بھنڈاری

غزل 18

اشعار 19

جانے کیوں لوگ مرا نام پڑھا کرتے ہیں

میں نے چہرے پہ ترے یوں تو لکھا کچھ بھی نہیں

  • شیئر کیجیے

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں

ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

  • شیئر کیجیے

شام ہوئی تو سورج سوچے

سارا دن بے کار جلے تھے

  • شیئر کیجیے

میری شہرت کے پیچھے ہے

ہاتھ بہت رسوائی کا

  • شیئر کیجیے

تیری چاہت کی ہے اتنی شدت

پا لیا تجھ کو تو مر جاؤں گا

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

خوشبو رنگ صدا کے سنگ

 

2003

 

تصویری شاعری 1

جس پر تمام عمر بہت ناز تھا مجھے میرا وہ علم میری سفارش نہ بن سکا