شراب شاعری

اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو

تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

منور رانا

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

ندا فاضلی

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز

یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

فرحت شہزاد

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

Priest I know this is a mosque, let me drink inside

Or point me to a place where God does not reside

نامعلوم

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

we came to the tavern all gay and frolicsome

now having drunk the wine, somber have become

we came to the tavern all gay and frolicsome

now having drunk the wine, somber have become

فراق گورکھپوری

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

let love's longing with the ache of existence compound

when spirits intermingle the euphoria is profound

let love's longing with the ache of existence compound

when spirits intermingle the euphoria is profound

احمد فراز

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو

نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

جون ایلیا

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

the tavern does not even give that much wine to me

that I was wont to waste in the goblet casually

the tavern does not even give that much wine to me

that I was wont to waste in the goblet casually

دواکر راہی

بے پئے ہی شراب سے نفرت

یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے

without drinking, to abhor wine so

what is this if not igorant stupidity

without drinking, to abhor wine so

what is this if not igorant stupidity

ساحر لدھیانوی

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

جلیل مانک پوری

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

نامعلوم

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

شیخ ابراہیم ذوقؔ

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ

بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا

عبد الحمید عدم

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد

ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

you've never drunk O hapless priest

The joys of wine how will you see

you've never drunk O hapless priest

The joys of wine how will you see

داغؔ دہلوی

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے

یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

عبد الحمید عدم

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب

کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

مرزا غالب

ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح

اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

شکیل بدایونی

ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں

پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں

نوح ناروی

ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند

مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے

the charge of being affected by wine, I do despise

I want to be accused of feasting from your eyes

the charge of being affected by wine, I do despise

I want to be accused of feasting from your eyes

عبد الحمید عدم

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ

میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

where does lightening strike, priest, let us look

I will raise my glass you raise your holy book

where does lightening strike, priest, let us look

I will raise my glass you raise your holy book

جگر مراد آبادی

آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

مرزا جواں بخت جہاں دار

وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی

کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے

عبد الحمید عدم

مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے

مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے

my tears too this does contain,this wine may start to boil

be careful for my goblet burns with rare intensity

my tears too this does contain,this wine may start to boil

be careful for my goblet burns with rare intensity

انور مرزاپوری

اچھی پی لی خراب پی لی

جیسی پائی شراب پی لی

ریاضؔ خیرآبادی

پوچھئے مے کشوں سے لطف شراب

یہ مزا پاکباز کیا جانیں

داغؔ دہلوی

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

جگر مراد آبادی

سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے

اور جگرؔ کو شراب نے مارا

جگر مراد آبادی

اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی

عبادت کریں آج مخمور ہو کر

tis the call to prayer, hasten, pour me wine

today inebriated, I'll worship the divine

tis the call to prayer, hasten, pour me wine

today inebriated, I'll worship the divine

نامعلوم

بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگر

پی کے انسان ہوا جاتا ہے

شکیل بدایونی

گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ

یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

جگر مراد آبادی

زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا

میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی

عبد الحمید عدم

واعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو

دوزخ میں پاؤں ہاتھ میں جام شراب ہو

داغؔ دہلوی

پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی

دوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کی

شکیل بدایونی

خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی

وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے

o priest where is the pleasure in this world when dry and sere

tis only when one drinks will then the joy truly appear

o priest where is the pleasure in this world when dry and sere

tis only when one drinks will then the joy truly appear

عرش ملسیانی

جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر

رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

غمگین دہلوی

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی

توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

ظہیرؔ دہلوی

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور

میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر صدیقی

کھلی فضا میں اگر لڑکھڑا کے چل نہ سکیں

تو زہر پینا ہے بہتر شراب پینے سے

شہزاد احمد

مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں

گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

مضطر خیرآبادی

شراب بند ہو ساقی کے بس کی بات نہیں

تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں

اسد ملتانی

عدمؔ روز اجل جب قسمتیں تقسیم ہوتی تھیں

مقدر کی جگہ میں ساغر و مینا اٹھا لایا

عبد الحمید عدم

کسی طرح تو گھٹے دل کی بے قراری بھی

چلو وہ چشم نہیں کم سے کم شراب تو ہو

آفتاب حسین

پی کر دو گھونٹ دیکھ زاہد

کیا تجھ سے کہوں شراب کیا ہے

حفیظ جونپوری

واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو

کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی

مرزا غالب

فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ

شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

مجروح سلطانپوری

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر

جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

بیخود دہلوی

ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی

جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

محشر بدایونی