مے کشی پر شاعری

مے کشی پر شاعری موضوعاتی طور پر بہت متنوع ہے ۔ اس میں مے کشی کی حالت کے تجربات اور کیفیتوں کا بیان بھی ہے اور مے کشی کو لے کر زاہد وناصح سے روایتی چھیڑ چھاڑ بھی ۔ اس شاعری میں مے کشوں کے لئے بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

ندا فاضلی

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو

نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

جون ایلیا

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز

یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

فرحت شہزاد

بے پئے ہی شراب سے نفرت

یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے

without drinking, to abhor wine so

what is this if not igorant stupidity

without drinking, to abhor wine so

what is this if not igorant stupidity

ساحر لدھیانوی

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

شیخ ابراہیم ذوقؔ

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب

کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

مرزا غالب

ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح

اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

شکیل بدایونی

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

جلیل مانک پوری

وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی

کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے

عبد الحمید عدم

اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی

عبادت کریں آج مخمور ہو کر

tis the call to prayer, hasten, pour me wine

today inebriated, I'll worship the divine

tis the call to prayer, hasten, pour me wine

today inebriated, I'll worship the divine

نامعلوم

سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے

اور جگرؔ کو شراب نے مارا

جگر مراد آبادی

زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا

میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی

عبد الحمید عدم

جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر

رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

غمگین دہلوی

بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگر

پی کے انسان ہوا جاتا ہے

شکیل بدایونی

خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی

وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے

o priest where is the pleasure in this world when dry and sere

tis only when one drinks will then the joy truly appear

o priest where is the pleasure in this world when dry and sere

tis only when one drinks will then the joy truly appear

عرش ملسیانی

اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی

بے پیے بے خودی سی رہتی ہے

ریاضؔ خیرآبادی

پلا مے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری

خدا سے جب نہیں چوری تو پھر بندے سے کیا چوری

شیخ ابراہیم ذوقؔ

مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت

کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے

عبد الحمید عدم

مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو

ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

آل احمد سرور

اٹھا صراحی یہ شیشہ وہ جام لے ساقی

پھر اس کے بعد خدا کا بھی نام لے ساقی

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید

سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے

each night is a night of love, each day a day divine

I sleep with my arms entwined around a flask of wine

each night is a night of love, each day a day divine

I sleep with my arms entwined around a flask of wine

حیدر علی آتش

رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے

نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا

شکیل بدایونی

غرق کر دے تجھ کو زاہد تیری دنیا کو خراب

کم سے کم اتنی تو ہر میکش کے پیمانے میں ہے

جگر مراد آبادی

زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور

پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا

حفیظ جونپوری

اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر

عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم

جلیل مانک پوری

تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو

جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی

سلام ؔمچھلی شہری

مے کشی سے نجات مشکل ہے

مے کا ڈوبا کبھی ابھر نہ سکا

جلیل مانک پوری

پی کے جیتے ہیں جی کے پیتے ہیں

ہم کو رغبت ہے ایسے جینے سے

الطاف مشہدی

مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہ

آئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹا

آغا اکبرآبادی

مے کشی میں رکھتے ہیں ہم مشرب درد شراب

جام مے چلتا جہاں دیکھا وہاں پر جم گئے

حسرتؔ عظیم آبادی

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی

حکیم ناصر

Added to your favorites

Removed from your favorites