ADVERTISEMENT

اشعار پرشرم

شرمانا معشوق کی ایک

صفت اور ایک ادا ہے ۔ کلاسیکی شاعری کا معشوق انتہائی درجے کا شرمیلا واقع ہوا ہے اسی لئے عاشق اس سے برابر اس کے شرمانے کی شکایت کرتا رہتا ہے ۔ محبوب شرم کے مارے عاشق پر ملتفت بھی نہیں ہوتا ۔ شرمانے کی مختلف اداؤں اور شکایتوں کی دلچسپ شکلوں کا یہ پر لطف بیان ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔

ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل

کسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا

جگر مراد آبادی

دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر

ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر

مصحفی غلام ہمدانی

جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر

رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

غمگین دہلوی

شرم بھی اک طرح کی چوری ہے

وہ بدن کو چرائے بیٹھے ہیں

انور دہلوی
ADVERTISEMENT

محبت کے اقرار سے شرم کب تک

کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں

اختر شیرانی

ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم ان کی نہیں جاتی

نگہ نیچی کئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی

اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

منیر نیازی

نام میرا سنتے ہی شرما گئے

تم نے تو خود آپ کو رسوا کیا

نسیم دہلوی
ADVERTISEMENT

شب وصل کیا جانے کیا یاد آیا

وہ کچھ آپ ہی آپ شرما رہے ہیں

جاوید لکھنوی