جلیلؔ مانک پوری

  • 1866-1946
  • حیدرآباد

مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء

مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا0
0 ا ,حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیا0
0 ا ,دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا0
0 ا ,رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کا0
0 ا ,سخت نازک مزاج_دلبر تھا0
0 ا ,ضبط_نالہ سے آج کام لیا0
0 ا ,عشق اب میری جان ہے گویا0
0 ا ,عشق اب میری جان ہے گویا2
0 ا ,کس قدر تھا گرم نالہ بلبل_ناشاد کا0
0 ا ,گھٹا دیا رتبہ ہر حسیں کا مٹا دیا رنگ حور_عین کا0
0 ا ,مجھ کو تو مرض ہے بے_خودی کا0
0 ا ,میری وحشت کا جو افسانہ بنایا ہوتا0
0 ا ,ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا0
0 ا ,ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا0
0 ا ,ہمارا دل وہ گل ہے جس کو زلف_یار میں دیکھا0
0 ا ,وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا0
0 ا ,یہ رنگ گلاب کی کلی کا0
0 ٹ ,دل پر اس کاکل_رسا کی چوٹ0
0 د ,کیا حنا خوں_ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد0
0 ر ,اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اور0
0 ر ,بن ترے کیا کروں جہاں لے کر0
0 ر ,چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر2
0 ر ,دل کے سب داغ کھلے ہیں گل_خنداں ہو کر0
0 ر ,راحت نہ مل سکی مجھے مے_خانہ چھوڑ کر0
0 ر ,ستم ہے مبتلائے_عشق ہو جانا جواں ہو کر0
0 ر ,ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر0
0 ڑ ,چل کر نہ زلف_یار کو تو اے صبا بگاڑ0
0 ظ ,بیٹھ جا کر سر_منبر واعظ0
0 ق ,کہاں ہم اور کہاں اب شراب_خانۂ_عشق0
0 ن ,راز_عشق اظہار کے قابل نہیں0
0 ن ,عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میں0
0 ن ,قاصد آیا مگر جواب نہیں0
0 ن ,قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میں0
0 ن ,مزے بیتابیوں کے آ رہے ہیں0
0 ن ,نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں0
0 ن ,نیا سودا نیا درد_نہانی لے کے آیا ہوں0
0 ن ,ہستی ہے عدم مری نظر میں0
0 ن ,یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں0
0 و ,بوئے_مے پا کے میں چلتا ہوا مے_خانے کو0
0 و ,لاکھ دل_مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو0
0 ے ,اب کون پھر کے جائے تری جلوہ_گاہ سے0
0 ی ,ابھی سے آفت_جاں ہے ادا ادا تیری0
0 ے ,اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے1
0 ے ,اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے0
0 ی ,آج تک دل کی آرزو ہے وہی2
0 ی ,ادا ادا تری موج_شراب ہو کے رہی0
0 ی ,انہیں عادت ہمیں لذت ستم کی0
0 ی ,اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی0
0 ی ,ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی0
0 ی ,بات ساقی کی نہ ٹالی جائے_گی3
0 ے ,بہا کر خون میرا مجھ سے بولے0
0 ی ,بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی0
0 ے ,پلا ساقی بہار آئے نہ آئے1
0 ے ,جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والے0
0 ے ,جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہے0
0 ے ,چال ایسی وہ شوخ چلتا ہے0
0 ے ,چاہیئے دنیا نہ عقبیٰ چاہیئے0
0 ی ,حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئی0
0 ے ,حسن میں آفت_جہاں تو ہے0
0 ی ,دل گیا دل_لگی نہیں جاتی0
0 ے ,دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے0
0 ے ,دیدار کی ہوس ہے نہ شوق_وصال ہے2
0 ی ,دیکھا جو حسن_یار طبیعت مچل گئی0
0 ے ,زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہے1
0 ے ,شباب ہو کہ نہ ہو حسن_یار باقی ہے0
0 ی ,ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے_گی0
0 ے ,عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے0
0 ے ,عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہے0
0 ی ,عکس ہے آئینۂ_دہر میں صورت میری1
0 ے ,غیر الفت کا راز کیا جانے0
0 ے ,قفس میں اشک_حسرت پر مدار_زندگانی ہے0
0 ی ,کھو کے دل میرا تمہیں نا_حق پشیمانی ہوئی0
0 ے ,کہوں کیا اضطراب_دل زباں سے0
0 ے ,کیا جلد دن بہار کے یارب گزر گئے0
0 ے ,کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے0
0 ے ,مار ڈالا مسکرا کر ناز سے0
0 ے ,محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے0
0 ے ,مرنے والے خوب چھوٹے گردش_ایام سے0
0 ے ,مری طرف سے یہ بے_خیالی نہ جانے ان کو خیال کیا ہے0
0 ے ,مفت میں توڑ کے رکھ دی مری توبہ تو نے0
0 ے ,موجود تھے ابھی ابھی روپوش ہو گئے0
0 ے ,نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے0
0 ی ,ہاں جسے عاشقی نہیں آتی0
0 ے ,ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے0
0 ے ,وصال_یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے0
0 ے ,یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو_خود_پرستی ہے0
0 ے ,یہ کہہ گیا بت_ناآشنا سنا کے مجھے0
0 ے ,یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ_تر سے پہلے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 88 of 88 items