جون ایلیا

  • 1931-2002
  • کراچی, پاکستان

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا1
0 ا ,آج لب_گہر_فشاں آپ نے وا نہیں کیا0
0 ا ,اک زخم بھی یاران_بسمل نہیں آنے کا1
0 ا ,اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا1
0 ا ,ایک سایہ مرا مسیحا تھا2
0 ا ,بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا2
0 ا ,جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا1
0 ا ,جز گماں اور تھا ہی کیا میرا2
0 ا ,دل کا دیار_خواب میں دور تلک گزر رہا0
0 ا ,دل نے وفا کے نام پر کار_وفا نہیں کیا1
0 ا ,دید کی ایک آن میں کار_دوام ہو گیا0
0 ا ,سارے رشتے تباہ کر آیا0
0 ا ,ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا0
0 ا ,عمر گزرے_گی امتحان میں کیا3
0 ا ,گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا0
0 ا ,نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپا0
0 ا ,یہ اکثر تلخ_کامی سی رہی کیا0
0 اب کسی سے مرا حساب نہیں0
0 ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں0
0 آپ اپنا غبار تھے ہم تو0
0 اپنی منزل کا راستہ بھیجو0
0 آدمی وقت پر گیا ہوگا0
0 اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں0
0 اس نے ہم کو گمان میں رکھا0
0 اک سایہ مرا مسیحا تھا0
0 انقلاب ایک خواب ہے سو ہے0
0 اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں0
0 ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے0
0 بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی0
0 بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا0
0 بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں0
0 بزم سے جب نگار اٹھتا ہے0
0 بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن0
0 تشنگی نے سراب ہی لکھا0
0 تم سے بھی اب تو جا چکا ہوں میں0
0 جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے0
0 حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے0
0 خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے0
0 خود سے رشتے رہے کہاں ان کے0
0 خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں0
0 خون تھوکے گی زندگی کب تک0
0 دل پریشاں ہے کیا کیا جائے0
0 دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں0
0 دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو0
0 دل سے ہے بہت گریز پا تو0
0 دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے0
0 دل کی تکلیف کم نہیں کرتے0
0 دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم0
0 دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں0
0 دولت دہر سب لٹائی ہے0
0 ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرا0
0 ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں0
0 ر ,جاؤ قرار_بے_دلاں شام_بخیر شب_بخیر2
0 ر ,ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر0
0 روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں0
0 زخم امید بھر گیا کب کا0
0 سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں0
0 سر صحرا حباب بیچے ہیں0
0 سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے0
0 ش ,دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش1
0 شاخ امید جل گئی ہوگی0
0 شام تک میری بیکلی ہے شراب0
0 شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی0
0 شہر بہ شہر کر سفر زاد سفر لیے بغیر0
0 شوق کا بار اتار آیا ہوں0
0 ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا0
0 طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں0
0 عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں0
0 عجب حالت ہماری ہو گئی ہے0
0 عیش امید ہی سے خطرہ ہے0
0 غم ہے بے ماجرا کئی دن سے0
0 فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں0
0 کام کی بات میں نے کی ہی نہیں0
0 کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں0
0 کب اس کا وصال چاہیے تھا0
0 کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو0
0 کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو0
0 کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو0
0 کون سے شوق کس ہوس کا نہیں0
0 کوئے جاناں میں اور کیا مانگو0
0 کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے0
0 کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ0
0 کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں0
0 گزراں ہیں گزرتے رہتے ہیں0
0 گفتگو جب محال کی ہوگی0
0 گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے0
0 م ,جو گزر دشمن ہے اس کا رہ_گزر رکھا ہے نام0
0 م ,نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم2
0 مجھ کو تو گر کے مرنا ہے0
0 مسکن ماہ و سال چھوڑ گیا0
0 میں نہ ٹھہروں نہ جان تو ٹھہرے0
0 ن ,اپنا خاکہ لگتا ہوں0
0 ن ,اپنے سب یار کام کر رہے ہیں2
0 ن ,اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں2
0 ن ,اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں2
0 ن ,ایذا_دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں0
0 ن ,بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں1
0 ن ,تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں2
0 ن ,تجھ میں پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ میں1
0 ن ,ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں2
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 167 items