جون ایلیا

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا1
0 ا ,آج لب_گہر_فشاں آپ نے وا نہیں کیا0
0 ا ,اک زخم بھی یاران_بسمل نہیں آنے کا1
0 ا ,اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا1
0 ا ,ایک سایہ مرا مسیحا تھا2
0 ا ,بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا2
0 ا ,جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا1
0 ا ,جز گماں اور تھا ہی کیا میرا2
0 ا ,دل کا دیار_خواب میں دور تلک گزر رہا0
0 ا ,دل نے وفا کے نام پر کار_وفا نہیں کیا1
0 ا ,دید کی ایک آن میں کار_دوام ہو گیا0
0 ا ,سارے رشتے تباہ کر آیا0
0 ا ,ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا0
0 ا ,عمر گزرے_گی امتحان میں کیا3
0 ا ,گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا0
0 ا ,نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپا0
0 ا ,یہ اکثر تلخ_کامی سی رہی کیا0
0 اب کسی سے مرا حساب نہیں0
0 ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں0
0 آپ اپنا غبار تھے ہم تو0
0 اپنی منزل کا راستہ بھیجو0
0 آدمی وقت پر گیا ہوگا0
0 اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں0
0 اس نے ہم کو گمان میں رکھا0
0 اک سایہ مرا مسیحا تھا0
0 انقلاب ایک خواب ہے سو ہے0
0 اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں0
0 ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے0
0 بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی0
0 بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا0
0 بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں0
0 بزم سے جب نگار اٹھتا ہے0
0 بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن0
0 تشنگی نے سراب ہی لکھا0
0 تم سے بھی اب تو جا چکا ہوں میں0
0 جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے0
0 حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے0
0 خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے0
0 خود سے رشتے رہے کہاں ان کے0
0 خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں0
0 خون تھوکے گی زندگی کب تک0
0 دل پریشاں ہے کیا کیا جائے0
0 دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں0
0 دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو0
0 دل سے ہے بہت گریز پا تو0
0 دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے0
0 دل کی تکلیف کم نہیں کرتے0
0 دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم0
0 دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں0
0 دولت دہر سب لٹائی ہے0
0 ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرا0
0 ذکر گل ہو خار کی باتیں کریں0
0 ر ,جاؤ قرار_بے_دلاں شام_بخیر شب_بخیر2
0 ر ,ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر0
0 روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں0
0 زخم امید بھر گیا کب کا0
0 سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں0
0 سر صحرا حباب بیچے ہیں0
0 سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے0
0 ش ,دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش1
0 شاخ امید جل گئی ہوگی0
0 شام تک میری بیکلی ہے شراب0
0 شام تھی اور برگ و گل شل تھے مگر صبا بھی تھی0
0 شہر بہ شہر کر سفر زاد سفر لیے بغیر0
0 شوق کا بار اتار آیا ہوں0
0 ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا0
0 طفلان کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں0
0 عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں0
0 عجب حالت ہماری ہو گئی ہے0
0 عیش امید ہی سے خطرہ ہے0
0 غم ہے بے ماجرا کئی دن سے0
0 فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں0
0 کام کی بات میں نے کی ہی نہیں0
0 کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں0
0 کب اس کا وصال چاہیے تھا0
0 کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو0
0 کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو0
0 کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو0
0 کون سے شوق کس ہوس کا نہیں0
0 کوئے جاناں میں اور کیا مانگو0
0 کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے0
0 کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ0
0 کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں0
0 گزراں ہیں گزرتے رہتے ہیں0
0 گفتگو جب محال کی ہوگی0
0 گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے0
0 م ,جو گزر دشمن ہے اس کا رہ_گزر رکھا ہے نام0
0 م ,نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم2
0 مجھ کو تو گر کے مرنا ہے0
0 مسکن ماہ و سال چھوڑ گیا0
0 میں نہ ٹھہروں نہ جان تو ٹھہرے0
0 ن ,اپنا خاکہ لگتا ہوں0
0 ن ,اپنے سب یار کام کر رہے ہیں2
0 ن ,اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں2
0 ن ,اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں2
0 ن ,ایذا_دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں0
0 ن ,بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں1
0 ن ,تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں2
0 ن ,تجھ میں پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ میں1
0 ن ,ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں2
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 167 items