ADVERTISEMENT

اشعار پرعذاب

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اختر انصاری

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض

عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاں

گلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیں

بدر واسطی

بتوں کی چاہ میں ہم تو عذاب ہی میں رہے

شب فراق کٹی روز انتظار آیا

نامعلوم
ADVERTISEMENT