Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اداسی پر اشعار

رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں

جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا

سدرشن فاکر

یہ زندگی جو پکارے تو شک سا ہوتا ہے

کہیں ابھی تو مجھے خود کشی نہیں کرنی

سوپنل تیواری

کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی

پلٹ کے آنے لگی ہے فضا اداسی کی

شاہدہ مجید

میں مریض ہوں ترے ہجر کا ذرا ہاتھ میں مرا ہاتھ لے

تو غموں کا میرے علاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا

ارپت شرما ارپت

بڑی مشکل سے آ کے بیٹھا ہوں

درد اٹھتے ہیں مت اٹھائیں مجھے

احمد عقیل

طوفاں کے بعد میں بھی بہت ٹوٹ سا گیا

دریا پھر اپنے رخ پہ بہا لے گیا مجھے

کرشن بہاری نور

کوئی صورت نہیں ہے جڑنے کی

اتنے ٹکڑوں میں بٹ کے آیا ہوں

اورنگ زیب

کوئی اپنے ہی غم سے خالی کہاں ہے

جہاں میں کوئی میرا غم خوار کیوں ہو

نظیر صدیقی

آفت و قہر فتنے مصیبت الم درد تکلیف کرب و بلا رنج و غم

اک توجہ ہٹائی جو اس نے ذرا دیکھ لو خود پہ کیسی گھڑی آ گئی

مرزا رفیق شاکر

وہ کہتے ہیں واللہ یہ کیا ہو گیا ہے

ذرا بھی جو آنکھوں کو نم دیکھتے ہیں

علی رقی

جادۂ غم میں آرزو کے سوا

ہم سفر دوسرا نہیں ہوتا

سعید سہروردی

غم کا ساتھی کون ہے یہ سوچ کر تنہا تھا میں

ساتھ لیکن میرے نشترؔ رو رہی تھی چاندنی

انوار احمد قریشی نشتر

چھپی تھی جس کی غزل میں زمانے بھر کی خوشی

خود اس کی زیست کا نغمہ عذاب سا ابھرا

عبدالمتین جامی
بولیے