آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
-
موضوعات : شراباور 1 مزید
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب کائنات کے وجود اور اس کے مظاہر پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ بظاہر نظر آنے والی یہ فطرت اور خوبصورتی آخر کہاں سے آئی ہے اور اس کی اصل حقیقت کیا ہے، گویا یہ سب ایک طلسم ہے۔
ابر برسے تو عنایت اس کی
شاخ تو صرف دعا کرتی ہے
گو برستی نہیں سدا آنکھیں
ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے
فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں
ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے
-
موضوعات : بارشاور 2 مزید
یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پر
یا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے
ہم نے برسات کے موسم میں جو چاہی توبہ
ابر اس زور سے گرجا کہ الٰہی توبہ
برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے
عکس آسمان پر جو پڑا ابر چھا گئے
-
موضوع : زلف
اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں
لہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا
-
موضوع : بجلی
ابر کی تیرگی میں ہم کو تو
سوجھتا کچھ نہیں سوائے شراب
دشت پھر کیوں نہیں رہے آباد
ابر آزاد ہے ہوا محفوظ
-
موضوع : دشت