Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شعر پر اشعار

شعرپر یا شاعری پرکی

جانے والی شاعری کئی معنی میں اہم ہے ۔ یہ شاعری ہمیں شعر سازی کی ترکیبوں اورفن کی باریکیوں سے بھی آگاہ کرتی ہے اوربعض اوقات شاعری کے مقاصد اوراس سےمتعلق بہت سےمعاملات پرروشنی ڈالتی ہے۔

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

ساحر لدھیانوی

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

میرے دل کا پوشیدہ حال کسی پر ظاہر ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

مگر میرے پسند کیے ہوئے اشعار نے میرا بھید کھول کر مجھے بدنام کر دیا۔

غالب فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے عشق اور دلی کیفیات کو دنیا کی نظروں سے چھپا رکھا تھا، لیکن محفل میں جب میں نے اشعار سنائے تو میرا راز فاش ہو گیا۔ میرے اشعار کا انتخاب میری ذہنی کیفیت کا عکاس بن گیا، جس سے لوگوں نے بھانپ لیا کہ میں کس حال میں ہوں، اور یوں میں رسوا ہو گیا۔

مرزا غالب

مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے

درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

مجھے شاعر مت کہیے، میرؔ، حضور؛ میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔

میں نے بس بےشمار درد اور غم سمیٹے، تو وہی دیوان بن گیا۔

اس شعر میں میرؔ شاعری کو لقب نہیں بلکہ جھیلی ہوئی اذیت کی کمائی بتاتے ہیں۔ دیوان یہاں خوش کلامی کی نہیں، درد و غم کی جمع پونجی کی صورت ہے۔ لہجے میں انکساری ہے مگر ساتھ یہ بھی کہ ان کا فن زندگی کے صدموں سے کشید ہوا ہے۔ ذاتی دکھ تخلیق میں ڈھل کر کتاب بن جاتا ہے۔

میر تقی میر

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

جاں نثار اختر

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

پروین شاکر

شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔ

سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں

حسرتؔ موہانی

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا

چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

جاں نثار اختر

غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے

مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی

بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

حیدر علی آتش

شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔ

سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں

امیر مینائی

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

حسرتؔ موہانی

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ

اولاد سے رہے یہی دو پشت چار پشت

اے ذوقؔ! عمدہ کلام اور شاعری کی بدولت انسان کا نام روزِ قیامت تک زندہ رہتا ہے۔

اولاد کے ذریعے تو نام و نشان صرف دو چار نسلوں تک ہی باقی رہ پاتا ہے۔

اس شعر میں شاعر نے جسمانی اور روحانی اولاد (فن) کا موازنہ کیا ہے۔ ذوقؔ کہتے ہیں کہ خونی رشتے وقت کی دھول میں مٹ جاتے ہیں لیکن سخن یعنی ادب انسان کو ابدی زندگی بخشتا ہے۔ اولاد سے نام کی بقا عارضی ہے، جبکہ علم و ہنر سے حاصل ہونے والی شہرت دائمی ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں

ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

پریم بھنڈاری

ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں

عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا

بشیر بدر

اپنے لہجے کی حفاظت کیجئے

شعر ہو جاتے ہیں نامعلوم بھی

ندا فاضلی

ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے

ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا

اعتبار ساجد

لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہے

شعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا

کلب حسین نادر

وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر

شعر جو انتخاب ہوتے ہیں

امیر مینائی

کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر

اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

افتخار عارف

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی

نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی

محسن نقوی

سو شعر ایک جلسے میں کہتے تھے ہم امیرؔ

جب تک نہ شعر کہنے کا ہم کو شعور تھا

امیر مینائی

سادہ سمجھو نہ انہیں رہنے دو دیواں میں امیرؔ

یہی اشعار زبانوں پہ ہیں رہنے والے

امیر مینائی

زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار

اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

افتخار عارف

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ

کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں

اسدؔ، اب ہمارے شعر بس دل بہلانے کے لیے رہ گئے ہیں، کسی بڑے مقصد کے لیے نہیں۔

یہ بات کھل گئی کہ اپنا ہنر لوگوں کے سامنے پیش کرنے میں کوئی فائدہ نہیں، بالکل بھی نہیں۔

شاعر ایک تلخ تجربے کے بعد اعتراف کرتا ہے کہ فن کی نمائش سے نہ قدر ملتی ہے نہ حاصل۔ اسی لیے وہ اپنے کلام کو “دل لگی” کہہ کر توقعات توڑ دیتا ہے اور خود کو بھی بچا لیتا ہے۔ “خاک نہیں” مبالغے کے ساتھ اس لاحاصلی اور مایوسی کو نمایاں کرتا ہے۔

مرزا غالب

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

احمد فراز

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا

یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا

عبید اللہ علیم

خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے

تب نظر آتی ہے اک مصرعۂ تر کی صورت

امیر مینائی

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ

میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

بیخود دہلوی

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں

حبیب جالب

راہ مضمون تازہ بند نہیں

تا قیامت کھلا ہے باب سخن

ولی دکنی

یہ ترے اشعار تیری معنوی اولاد ہیں

اپنے بچے بیچنا اقبال ساجدؔ چھوڑ دے

اقبال ساجد

اصغرؔ غزل میں چاہئے وہ موج زندگی

جو حسن ہے بتوں میں جو مستی شراب میں

اصغر گونڈوی

اس کو سمجھو نہ خط نفس حفیظؔ

اور ہی کچھ ہے شاعری سے غرض

حفیظ جونپوری

بھوک تخلیق کا ٹیلنٹ بڑھا دیتی ہے

پیٹ خالی ہو تو ہم شعر نیا کہتے ہیں

خالد عرفان

شاعری میں انفس و آفاق مبہم ہیں ابھی

استعارہ ہی حقیقت میں خدا سا خواب ہے

کاوش بدری

اس کا تو ایک لفظ بھی ہم کو نہیں ہے یاد

کل رات ایک شعر کہا تھا جو خواب میں

کمال احمد صدیقی

مرے انگ انگ میں بس گئی

یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے

فرحت عباس شاہ

اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا

دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کاروبار کیا

محمود شام

کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی

جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا

کیف احمد صدیقی

حرف کو برگ نوا دیتا ہوں

یوں مرے پاس ہنر کچھ بھی نہیں

خلیل تنویر

مجھ کو مرنے نہ دیا شعر اتارے مجھ پر

عشق نے بس یہ مرے ساتھ رعایت کی تھی

عمار یاسر مگسی

ہمارے شعر کو سن کر سکوت خوب نہیں

بیان کیجئے اس میں جو کچھ تأمل ہو

جوشش عظیم آبادی

کب وہ پیغام رسا ہو کہ مجھے صبر نہیں

کاکل خم کے لئے شعر رقم کرتا ہوں

اسامہ امیر

خاص انداز جب سخن کا نہ ہو

شاعری شاعری نہیں ہوتی

وید راہی
بولیے