شعر پر اشعار
شعرپر یا شاعری پرکی
جانے والی شاعری کئی معنی میں اہم ہے ۔ یہ شاعری ہمیں شعر سازی کی ترکیبوں اورفن کی باریکیوں سے بھی آگاہ کرتی ہے اوربعض اوقات شاعری کے مقاصد اوراس سےمتعلق بہت سےمعاملات پرروشنی ڈالتی ہے۔
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
میرے دل کا پوشیدہ حال کسی پر ظاہر ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
مگر میرے پسند کیے ہوئے اشعار نے میرا بھید کھول کر مجھے بدنام کر دیا۔
غالب فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے عشق اور دلی کیفیات کو دنیا کی نظروں سے چھپا رکھا تھا، لیکن محفل میں جب میں نے اشعار سنائے تو میرا راز فاش ہو گیا۔ میرے اشعار کا انتخاب میری ذہنی کیفیت کا عکاس بن گیا، جس سے لوگوں نے بھانپ لیا کہ میں کس حال میں ہوں، اور یوں میں رسوا ہو گیا۔
-
موضوع : مشہور اشعار
مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
مجھے شاعر مت کہیے، میرؔ، حضور؛ میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔
میں نے بس بےشمار درد اور غم سمیٹے، تو وہی دیوان بن گیا۔
اس شعر میں میرؔ شاعری کو لقب نہیں بلکہ جھیلی ہوئی اذیت کی کمائی بتاتے ہیں۔ دیوان یہاں خوش کلامی کی نہیں، درد و غم کی جمع پونجی کی صورت ہے۔ لہجے میں انکساری ہے مگر ساتھ یہ بھی کہ ان کا فن زندگی کے صدموں سے کشید ہوا ہے۔ ذاتی دکھ تخلیق میں ڈھل کر کتاب بن جاتا ہے۔
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
-
موضوع : رسوائی
شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔ
سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں
ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے
غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے
مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔ
سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
-
موضوع : مشہور اشعار
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ
اولاد سے رہے یہی دو پشت چار پشت
اے ذوقؔ! عمدہ کلام اور شاعری کی بدولت انسان کا نام روزِ قیامت تک زندہ رہتا ہے۔
اولاد کے ذریعے تو نام و نشان صرف دو چار نسلوں تک ہی باقی رہ پاتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے جسمانی اور روحانی اولاد (فن) کا موازنہ کیا ہے۔ ذوقؔ کہتے ہیں کہ خونی رشتے وقت کی دھول میں مٹ جاتے ہیں لیکن سخن یعنی ادب انسان کو ابدی زندگی بخشتا ہے۔ اولاد سے نام کی بقا عارضی ہے، جبکہ علم و ہنر سے حاصل ہونے والی شہرت دائمی ہے۔
چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں
ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ
ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں
عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا
ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے
ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا
لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہے
شعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا
وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر
شعر جو انتخاب ہوتے ہیں
کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں
سو شعر ایک جلسے میں کہتے تھے ہم امیرؔ
جب تک نہ شعر کہنے کا ہم کو شعور تھا
سادہ سمجھو نہ انہیں رہنے دو دیواں میں امیرؔ
یہی اشعار زبانوں پہ ہیں رہنے والے
زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی
ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
اسدؔ، اب ہمارے شعر بس دل بہلانے کے لیے رہ گئے ہیں، کسی بڑے مقصد کے لیے نہیں۔
یہ بات کھل گئی کہ اپنا ہنر لوگوں کے سامنے پیش کرنے میں کوئی فائدہ نہیں، بالکل بھی نہیں۔
شاعر ایک تلخ تجربے کے بعد اعتراف کرتا ہے کہ فن کی نمائش سے نہ قدر ملتی ہے نہ حاصل۔ اسی لیے وہ اپنے کلام کو “دل لگی” کہہ کر توقعات توڑ دیتا ہے اور خود کو بھی بچا لیتا ہے۔ “خاک نہیں” مبالغے کے ساتھ اس لاحاصلی اور مایوسی کو نمایاں کرتا ہے۔
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے
سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا
یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا
خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعۂ تر کی صورت
میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ
میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا
-
موضوعات : اردواور 1 مزید
شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں
راہ مضمون تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے باب سخن
اصغرؔ غزل میں چاہئے وہ موج زندگی
جو حسن ہے بتوں میں جو مستی شراب میں
اس کو سمجھو نہ خط نفس حفیظؔ
اور ہی کچھ ہے شاعری سے غرض
بھوک تخلیق کا ٹیلنٹ بڑھا دیتی ہے
پیٹ خالی ہو تو ہم شعر نیا کہتے ہیں
شاعری میں انفس و آفاق مبہم ہیں ابھی
استعارہ ہی حقیقت میں خدا سا خواب ہے
اس کا تو ایک لفظ بھی ہم کو نہیں ہے یاد
کل رات ایک شعر کہا تھا جو خواب میں
مرے انگ انگ میں بس گئی
یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے
اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا
دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کاروبار کیا
کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی
جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا
مجھ کو مرنے نہ دیا شعر اتارے مجھ پر
عشق نے بس یہ مرے ساتھ رعایت کی تھی
-
موضوع : عشق
ہمارے شعر کو سن کر سکوت خوب نہیں
بیان کیجئے اس میں جو کچھ تأمل ہو
کب وہ پیغام رسا ہو کہ مجھے صبر نہیں
کاکل خم کے لئے شعر رقم کرتا ہوں
-
موضوعات : پیغاماور 2 مزید
خاص انداز جب سخن کا نہ ہو
شاعری شاعری نہیں ہوتی