noImage

کیف احمد صدیقی

1943 - 1986 | سیتا پور, ہندوستان

کیف احمد صدیقی

غزل 21

اشعار 14

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے

ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے

اک برس بھی ابھی نہیں گزرا

کتنی جلدی بدل گئے چہرے

محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں

جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا

آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے

دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے

کتاب 5

دلچسپ نظمیں

 

1971

گرد کا درد

 

1970

حساب لفظ لفظ کا

 

1985

سدا بہار نظمیں

 

1980

سورج کی آنکھ

 

1977

 

تصویری شاعری 1

کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استاد ہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استاد توڑ دیتے ہیں جہالت کے اندھیروں کا طلسم علم کی شمع جلاتے ہیں ہمارے استاد منزل_علم کے ہم لوگ مسافر ہیں مگر راستہ ہم کو دکھاتے ہیں ہمارے استاد زندگی نام ہے کانٹوں کے سفر کا لیکن راہ میں پھول بچھاتے ہیں ہمارے استاد دل میں ہر لمحہ ترقی کی دعا کرتے ہیں ہم کو آگے ہی بڑھاتے ہیں ہمارے استاد سب کو تہذیب_و_تمدن کا سبق دیتے ہیں ہم کو انسان بناتے ہیں ہمارے استاد ہم کو دیتے ہیں بہر_لمحہ پیام_تعلیم اچھی باتیں ہی بتاتے ہیں ہمارے استاد خود تو رہتے ہیں بہت تنگ_و_پریشان مگر دولت_علم لٹاتے ہیں ہمارے استاد ہم پہ لازم ہے کہ ہم لوگ کریں ان کا ادب کس محبت سے بڑھاتے ہیں ہمارے استاد

 

مزید دیکھیے

"سیتا پور" کے مزید شعرا

  • جگرؔ بسوانی جگرؔ بسوانی
  • انجم انصاری انجم انصاری
  • صفدر آہ سیتاپوری صفدر آہ سیتاپوری