حسرت پر اشعار
آرزؤں اور امیدوں کے
ناکام ہونے کے بعد ان کی حسرت ہی بچتی ہے ۔ حسرت دکھ ، مایوسی ،افسوس اور احساس محرومی سے ملی جلی ایک کیفیت ہے اور ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں اس کیفیت سے گزرتے ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں حسرت کی بیشتر صورتیں عشق میں ناکامی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس حسرت بھرے بیانیے کی اداسی کو محسوس کیجئے ۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
میری خواہشیں بے شمار ہیں، اور ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔
میرے بہت سے ارمان پورے بھی ہوئے، مگر پھر بھی دل کو کم ہی لگے۔
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
-
موضوعات : آرزواور 5 مزید
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہ وہ کہیں اور جا کر رہیں۔
میرے داغدار دل میں اب اتنی گنجائش نہیں رہی۔
شاعر حسرتوں کو جاندار بنا کر یوں مخاطب ہے جیسے وہ دل میں آ بسیں ہوں۔ دل پہلے ہی دکھ اور زخموں کے داغوں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے مزید آرزوؤں کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ یہ شعر اندرونی تھکن، بےبسی اور بڑھتے ہوئے غم کی کیفیت کو سادہ مگر گہری تمثیل میں بیان کرتا ہے۔
-
موضوع : دل
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
-
موضوعات : آرزواور 4 مزید
اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو
آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے
کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا
حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا
سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو
اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
-
موضوعات : آرزواور 3 مزید
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے
جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
-
موضوعات : آرزواور 3 مزید
کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں
ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا
-
موضوعات : آرزواور 3 مزید
دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ
آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے
-
موضوعات : آرزواور 2 مزید
ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے
پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
حسرتوں کا ہو گیا ہے اس قدر دل میں ہجوم
سانس رستہ ڈھونڈھتی ہے آنے جانے کے لیے
خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو
ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا
یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے
آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی
میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں
ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے
زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے
فقط آنکھیں چراغوں کی طرح سے جل رہی ہیں
کسی کی دسترس میں ہے کہاں کوئی ستارہ
-
موضوعات : انتظاراور 1 مزید
ڈوبتا ہوں تو مجھے ہاتھ کئی ملتے ہیں
کتنی حسرت سے کناروں کی طرف دیکھتا ہوں
کب الم اور حسرتیں اپنی کہیں اے دوستاں
رات کو بلبل ہیں ہم اور دن کو پروانے ہیں ہم
-
موضوعات : پروانہاور 1 مزید
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے
آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
میں چمن کو حسرت بھری نگاہ سے کیوں نہ دیکھوں؟
کیونکہ پچھلے سال یہی پر میرا بھی آشیانہ تھا۔
چمن یہاں زندگی اور زمانے کی بدلتی ہوئی فضا کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس جگہ کو دیکھ کر حسرت اٹھتی ہے، اس لیے کہ کبھی یہیں اس کا آشیانہ تھا۔ آشیانہ گھر، سکون اور وابستگی کا استعارہ ہے جو اب باقی نہیں۔ مرکزی کیفیت ناپائیداری کا دکھ اور یادِ ماضی کی چبھن ہے۔
خدا رکھے یہ پاس وضع میں تم سے بھی بڑھ کر ہے
تمہیں آ کر نکالو گے تو ارماں دل سے نکلے گا
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید
نیند ویسے بھی نہیں آتی مگر
آنکھ میں اب بس خماری چاہیئے
-
موضوعات : آنکھاور 1 مزید
حسن دل کش اسے کہتے ہیں کہ ہم ساری عمر
ان کو دیکھا کیے دیدار کی حسرت نہ گئی
-
موضوع : حسن
اب محبت کا سبب ہے وحشت
ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے
-
موضوع : وحشت
محض خوابوں خیالوں میں ترا دیدار ہو کب تک
حقیقت میں بھی تجھ سے آشنائی چاہتے ہیں ہم
ہمارے پاؤں میں کیلیں اور آنکھوں سے لہو ٹپکے
ہماری جو بھی حالت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے
-
موضوع : تمنا