موسم پر اشعار

موسم کی خوشگواری اور

اس کی بے دردی کو شاعری میں الگ الگ طریقوں سے برتا گیا ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ دیکھیں گے کہ موسم دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ ساتھ ہی شاعری میں موسم کی رومان پرور فضا سے پیدا ہونے والے عشقیہ جذبات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔ آپ کو ہمارا یہ انتخاب پسند آئے گا ۔

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

قیصر الجعفری

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے

وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

فراق گورکھپوری

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

قتیل شفائی

سردی میں دن سرد ملا

ہر موسم بے درد ملا

محمد علوی

میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا

ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی

زیب غوری

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

عزیز اعجاز

آتی جاتی ہے جا بہ جا بدلی

ساقیا جلد آ ہوا بدلی

امام بخش ناسخ

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے