الوداع

کسی کو رخصت کرتے ہوئے ہم جن کیفیتوں سے گزرتے ہیں انہیں محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کا اظہار اور انہیں زبان دینا ایک مشکل امر ہے، صرف ایک تخلیقی اظہار ہی ان کیفیتوں کی لفظی تجسیم کا متحمل ہوسکتا ہے ۔ ’’الوداع‘‘ کے لفظ کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں وہ الوداعی کیفیات کے انہیں نامعلوم علاقوں کی سیر ہیں ۔

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

میر تقی میر

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا

سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

ندا فاضلی

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

بشیر بدر

جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی

دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

شکیل بدایونی

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا

مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

بشیر بدر

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی

رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

جون ایلیا

یہ ایک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم

یہاں سے تیرے مرے راستے بدلتے ہیں

بشیر بدر

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

عبید اللہ علیم

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

جلیل مانک پوری

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

ناصر کاظمی

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے

تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

بشیر بدر

چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک

لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے

شہزاد احمد

اب کے جاتے ہوئے اس طرح کیا اس نے سلام

ڈوبنے والا کوئی ہاتھ اٹھائے جیسے

نامعلوم

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے

جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

معین شاداب

میں جانتا ہوں مرے بعد خوب روئے گا

روانہ کر تو رہا ہے وہ ہنستے ہنستے مجھے

امین شیخ

تم سنو یا نہ سنو ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ

ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں

عرفان صدیقی

اسے جانے کی جلدی تھی سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں

جہاں تک چھوڑ سکتا تھا وہاں تک چھوڑ آیا ہوں

نامعلوم

دکھ کے سفر پہ دل کو روانہ تو کر دیا

اب ساری عمر ہاتھ ہلاتے رہیں گے ہم

احمد مشتاق

عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل

کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

سحر انصاری

گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں

تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ

نامعلوم

جادہ جادہ چھوڑ جاؤ اپنی یادوں کے نقوش

آنے والے کارواں کے رہنما بن کر چلو

نامعلوم

تم اسی موڑ پر ہمیں ملنا

لوٹ کر ہم ضرور آئیں گے

نامعلوم

جانے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی

تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

اسلم انصاری

اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھی

دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو

محمد علوی

ہم نے مانا اک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا

لیکن تجھ بن عمر جو گزری کون اسے لوٹائے گا

اختر سعید خان

کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کر

کہا جب الوداع اس نے پلٹ کر

پون کمار

تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی

اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے

پروین شاکر

اب مجھ کو رخصت ہونا ہے اب میرا ہار سنگھار کرو

کیوں دیر لگاتی ہو سکھیو جلدی سے مجھے تیار کرو

شبنم شکیل

ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی

یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

نعمان شوق

وقت رخصت تری آنکھوں کا وہ جھک سا جانا

اک مسافر کے لیے زاد سفر ہے اے دوست

نامعلوم

وہ الوداع کا منظر وہ بھیگتی پلکیں

پس غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے

شکیب جلالی

جاتے جاتے ان کا رکنا اور مڑ کر دیکھنا

جاگ اٹھا آہ میرا درد تنہائی بہت

لطف ہارونی

یہ گھر مرا گلشن ہے گلشن کا خدا حافظ

اللہ نگہبان نشیمن کا خدا حافظ

نامعلوم

وقت رخصت الوداع کا لفظ کہنے کے لیے

وہ ترے سوکھے لبوں کا تھرتھرانا یاد ہے

نامعلوم

ایک دن کہنا ہی تھا اک دوسرے کو الوداع

آخرش سالمؔ جدا اک بار تو ہونا ہی تھا

سالم شجاع انصاری

جانے والے جا خدا حافظ مگر یہ سوچ لے

کچھ سے کچھ ہو جائے گی دیوانگی تیرے بغیر

منظر لکھنوی

برق کیا شرارہ کیا رنگ کیا نظارہ کیا

ہر دئے کی مٹی میں روشنی تمہاری ہے

نامعلوم

چمن سے رخصت گل ہے نہ لوٹنے کے لیے

تو بلبلوں کا تڑپنا یہاں پہ جائز ہے

نامعلوم

یہ ہم ہی جانتے ہیں جدائی کے موڑ پر

اس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہوا

نامعلوم

آئی ہوگی تو موت آئے گی

تم تو جاؤ مرا خدا حافظ

ناطق گلاوٹھی

لگا جب یوں کہ اکتانے لگا ہے دل اجالوں سے

اسے محفل سے اس کی الوداع کہہ کر نکل آئے

پروندر شوخ

آب دیدہ ہو کے وہ آپس میں کہنا الوداع

اس کی کم میری سوا آواز بھرائی ہوئی

پروین ام مشتاق

کیوں گرفتہ دل نظر آتی ہے اے شام فراق

ہم جو تیرے ناز اٹھانے کے لیے موجود ہیں

ثروت حسین