Sarvat Husain's Photo'

ثروت حسین

1949 - 1996 | کراچی, پاکستان

غزل 38

اشعار 35

جسے انجام تم سمجھتی ہو

ابتدا ہے کسی کہانی کی

سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیں

میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروتؔ

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں

میں آگ دیکھتا تھا آگ سے جدا کر کے

بلا کا رنگ تھا رنگینیٔ قبا سے ادھر

مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے

ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 6

آدمی پیڑ اور مکان صاف نیلا آسمان سنگ_ریزے اور گلاب سب کے سب اچھے لگے اس کے گھر جاتے ہوئے

پھر وہ برسات دھیان میں آئی تب کہیں جان جان میں آئی پھول پانی میں گر پڑے سارے اچھی جنبش چٹان میں آئی روشنی کا اتا_پتا لینے شب_تیرہ جہان میں آئی رقص_سیارگاں کی منزل بھی سفر_خاک_دان میں آئی

سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پر دل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر روشن ہے اک ستارہ ہمارے بھی نام کا پیڑوں کی چوٹیوں سے ادھر آسمان پر

 

آڈیو 12

اک روز میں بھی باغ_عدن کو نکل گیا

پورے چاند کی سج دھج ہے شہزادوں والی

پھر وہ برسات دھیان میں آئی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • پروین شاکر پروین شاکر ہم عصر
  • محمد خالد محمد خالد ہم عصر
  • سحر انصاری سحر انصاری ہم عصر
  • سحر انصاری سحر انصاری ہم عصر
  • اعتبار ساجد اعتبار ساجد ہم عصر
  • عدیم ہاشمی عدیم ہاشمی ہم عصر
  • شجاع خاور شجاع خاور ہم عصر
  • فرحت احساس فرحت احساس ہم عصر

"کراچی" کے مزید شعرا

  • پروین شاکر پروین شاکر
  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • سلیم احمد سلیم احمد
  • انور شعور انور شعور
  • محسن احسان محسن احسان
  • شبنم شکیل شبنم شکیل
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • زہرا نگاہ زہرا نگاہ
  • ادا جعفری ادا جعفری